انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 548 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 548

انوار العلوم جلد ۵ ۵۴۸ لا نكتة الله علاج بتائیں۔انہوں نے ایک لاحول پڑھنے کے لئے کہا۔آخر ان کو کشف میں ایک بندر نظر آیا جی نے کہا ئیں شیطان ہوں اگر تم لاحول نہ پڑھتی اور تمہارے بھائی تم کو سمجھاتے تو میں نے فرض بھی چھڑوا دینے تھے۔غرض شیطان کی تحریک کبھی نیکی کی شکل میں پیش کی جاتی ہے لیکن اس میں قدر مراتب کا خیال نہیں ہوتا۔خدا تعالیٰ کے ہر قانون میں موازنہ ہوتا ہے اور ہر بڑی چیز کے مقابلہ میں چھوٹی قربان ہوتی ہے۔لیکن جہاں بڑی چیز چھوٹی کے لئے قربان ہونے لگے وہاں سمجھ لو کہ یہ شیطانی تحریک ہے۔یہ طریق دسوسہ کا بہت عام ہے۔چنانچہ بعض لوگ سوال کیا کرتے ہیں کہ تعلیم کے بغیر کوئی ترقی حاصل نہیں ہو سکتی۔اس لئے پہلے تعلیم ہونی چاہئے اور پھر تبلیغ کا کام شروع کرنا چاہئے۔اس لئے جتنا روپیہ جمع ہو سکے وہ سب تعلیم پر خرچ کرنا چاہئے۔اس سوال کا جواب دینے والا یہ تو کہ نہیں سکتا کہ تعلیم اچھی نہیں اس لئے اس کا انتظام نہیں ہونا چاہئے اس لیئے وہ بالعموم اس سوال سے متاثر ہو جاتا ہے۔مگر جیسا کہ میں نے بتایا ہے یہ ایک وسوسہ ہے کیو نکہ تعلیم بطور تزئین کے ہے جو دین کے لئے ایک زائد چیز ہے۔بے شک اس کا خیال رکھنا ضروری ہے۔لیکن سب کچھ اسی پر خرچ کر دینا ایسا ہی ہے جیسا کہ دس آدمیوں کو زندہ رکھنے کے لئے کھانا تیار کرنے کا جو سامان ہو اس سے ایک ہی آدمی کے لئے پلاؤ پکا لیا جائے۔اور باقی سب کو ٹھو کا مر جانے دیا جائے دس آدمیوں کو زندہ رکھنا بہتر ہے بنسبت اس کے کہ ایک کو پیپر تکلف کھانا کھلا دیا جائے پیس تعلیم پر سا را روی پیر اور ساری محنت خرچ کرنے کی نسبت یہ بہت ضروری ہے کہ لوگوں کو روحانی زندگی حاصل کرانے کی کوشش کی جائے۔اور اس بڑے کام کو چھوٹے کام کے لئے نہ چھوڑا جائے ورنہ اعلیٰ اور ادنی کام میں موازنہ نہیں رہے گا۔موازنہ کے متعلق رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہایت لطیف پیرائے میں اشارہ فرمایا ہے۔آپؐ سے پوچھا گیا کہ حرام اور حلال چیز کا کس طرح پتہ لگے فرمایا : الإِثْمُ مَا حَاكَ فِي صَدرِک نے اپنے دل سے پوچھ لینا چاہئے۔اگر ساری دنیا کے مولوی کہتے رہیں کہ فلاں بات نا جائز ہے لیکن دل فتوی دے کہ جائز ہے تو جائز ہوگی۔یہ بات ان امور کے متعلق نہیں جن کے جائز و نا جائز ہونے کا فیصلہ شریعت نے کر دیا ہے۔بلکہ ان کے متعلق ہے جن کا کرنا بعض لحاظ سے نیکی معلوم ہو اور بعض لحاظ سے بدی۔اگر ایسی بات کے کرنے کو دل نہ مانے تو عه عيه مسند احمد بن مبل جلد ۴ صفحه ۲۲۷