انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 541 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 541

انوار العلوم جلد ۵ اپنے قلب کا مطالعہ کرو۔۵۴۱ لمہ نلکی اور منی شیطانی کا موازنہ کرنے کا طریق ملكة الله اب میں ایک موٹا اصول بتاتا ہوں کہ کس طرح معلوم ہو کہ تمہاری تحریکوں میں شیطان کا دخل زیادہ ہے یا ملائکہ کا۔پہلے میں نے بتایا ہے کہ اصل تحریکیں خواہ بری ہوں یا اچھی۔تمہاری اپنی ہوتی ہیں۔فرشتے یا شیطان کی نہیں ہوتیں اس لئے تمہیں اپنے قلب کو دیکھنا چاہئے اور اس کو دیکھ کر معلوم کرنا چاہئے کہ تمہارے ساتھ کس کا تعلق زیادہ ہے۔اول - اگر تم دیکھو کہ پہلے دل میں نیک خیال پیدا ہوتا ہے اور پھر بد تو سمجھ لو کہ فرشتہ کا تعلق تم سے شیطان کی نسبت زیادہ ہے۔فرشتہ اپنے تعلق کو بڑھانا چاہتا ہے مگر شیطان اس میں رکاوٹ ڈالتا ہے۔تو ہمیشہ جب کسی بدی کا خیال پیدا ہو یہ دیکھو کہ اس سے پہلے نیکی کا خیال تم میں پیدا ہوا تھا یا نہیں۔اگر پیدا ہوا تھا تو ملک کا تعلق تم سے بہت زیادہ ہے بنسبت شیطان کے مثلاً تم نماز پڑھنے کے لئے آئے ہو مگر تمہارے دل میں وسوسے پڑتے ہیں تو معلوم ہوا کہ ملائکہ کا تم سے زیادہ تعلق ہے تم نیکی کرنے آتے ہو اور شیطان اسے خراب کرنے لگتا ہے۔دوم۔اگر تم دیکھو کہ جب کوئی بُرا خیال تمہارے دل میں پیدا ہوتا ہے تو جھٹ ساتھ ہی نیک خیال بھی پیدا ہو جاتا ہے۔مثلاً یہ خیال پیدا ہوتا ہے کہ مسجد میں چلو لوگ دیکھیں گے کہ میں بھی نماز پڑھتا ہوں اور بعد میں یہ خیال آجاتا ہے کہ نماز پڑھنی ہے تو پھر اللہ ہی کی پڑھوں گا۔تو ایسی صورت میں سمجھ لو کہ ملائکہ کا تعلق تم سے زیادہ نہیں مگر پھر بھی ملائکہ نے تم کو بالکل چھوڑ بھی نہیں دیا۔جب انہوں نے موقع دیکھا مجھٹ آجاتے ہیں تاکہ نیکی کی طرف سے آئیں۔اس حد تک انسان محفوظ ہوتا ہے۔کیونکہ ملائکہ نے اس سے محبت کا تعلق ترک نہیں کیا ہوتا پہلا درجہ تو یہ تھا کہ وہ اسے اوپر اٹھاتے تھے اور شیطان نیچے کھینچتا تھا۔دوسرا یہ کہ وہ ڈوبنے لگتا تھا تو ملائکہ اسے بچاتے تھے۔جو انسان اس حالت میں ہو وہ بھی سمجھ لے کہ وہ ایسے مقام پر ہے کہ ترقی کر سکتا ہے مایوسی کی حد تک نہیں پہنچا۔سوم تیسرا درجہ نہایت نازک ہے اور وہ یہ ہے کہ تم محسوس کرو کہ بدی کی تحریک ہوتی ہے اور وروہ