انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 542 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 542

انوار العلوم جلد ۵ ۵۴۲ مگر ساتھ اس کے نیکی کی تحریک نہیں ہوتی۔گھنٹہ پر گھنٹہ اور دن پر دن گزرتا جاتا ہے مگر دل میں اس تحریک کے خلاف جوش نہیں پیدا ہوتا۔اگر یہ حالت ہے تو سمجھ لوکہ تم کو ملائکہ بالکل چھوڑ گئے ہیں اور تم بالکل شیطان کے قبضہ میں پڑ گئے ہو۔یہ تین درجے تو وہ ہیں جن میں بدی کی تحریک نیکی کے برابر یا اس سے زیادہ ہوتی ہے اور ان میں سے ایک درجہ پر قائم شخص کو بہت ہوشیار رہنا چاہئے۔ان سے اوپر دو اور درجے ہیں جن میں المہ ملکی اور منہ شیطانی سے انسان کا واسطہ پڑتا ہے مگر منہ نلکی غالب ہوتا ہے اور وہ یہ ہیں : (1) پہلے نیک خیال پیدا ہوتا ہو اور اس کے بعد بد خیال پیدا ہوتا ہو۔جب یہ حالت ہو تو سمجھ لینا چاہئے کہ گو فرشتے پورے طور پر اس کے اردگرد نہیں ہیں لیکن اصل تعلق فرشتوں کا ہے شیطان صرف ترقی روکنے کے لئے زور لگا رہا ہے۔(۲) دوسری حالت یہ ہے کہ نیک خیالات پہلے پیدا ہوں اور بد بعدین۔مگر بد خیالات بہت کم پیدا ہوں یا یہ کہ مختلف قسم کی نیک تحریکوں میں سے بعض کے متعلق دل میں خیال پیدا ہوں بعض کے متعلق نہیں اس حالت کے متعلق جان لینا چاہئے کہ فرشتوں کا تعلق مضبوط ہو رہا ہے اور شیطان کا کم۔اور کوئی دروازہ اس کے لئے کھلا رہ گیا ہے۔جب اس سے اوپر انسان ترقی کرتا ہے تو پھر شیطانی حملہ سے بالکل محفوظ ہو جاتا ہے۔ان پانچوں ذریعوں سے پتہ لگ سکتا ہے کہ انسان بدی میں بڑھ رہا ہے یا نیکی میں ترقی کر رہا ہے۔اب یہ سوال ہوتا ہے کہ انسان کے اندر کون سی تحریک زیادہ زیر دست ہے آیا ملکی تحریک با شیطانی ؟ اور انسان کے لئے کون سے راستے زیادہ کھلے ہیں ؟ ملائکہ کے رستے یا شیطان کے۔اس سے یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ خدا نے انسانی ترقی کے زیادہ سامان رکھے ہیں یا گرا ہی کے ؟ صوفیاء سے ایک غلطی ہوئی ہے۔یا یوں کنا چاہئے کہ ان سے ٹیکنیکل لینی اصطلاحی غلطی ہوئی ہے حقیقی غلطی نہیں اور وہ یہ کہ ایک چیز کا مفہوم سمجھتے ہیں انہوں نے غلطی کھائی ہے۔عام طور پر بلکہ سارے کے سارے لکھتے ہیں کہ فرشتہ کا ایک ہی رستہ ہے اور شیطان کے انسان کے اندر داخل ہونے کے کئی دروازے ہیں۔مگر یہ غلط ہے اول تو قانونِ قدرت سے یہ بات غلط ثابت ہوتی ہے۔پھر قرآن کریم کی رو سے بھی غلط ہے۔قانون قدرت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے اندر خیالات بیرونی اثرات سے پیدا ہوتے ہیں۔مثلاً ایک شخص کے دل میں چوری کا خیال اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب وہ کوئی چیز با ہر دکھتا ہے اسی طرح اور باتوں کے متعلق ہوتا ہے۔اس کے ساتھ یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جن ذرائع سے انسان کے