انوارالعلوم (جلد 5) — Page 36
انوار العلوم جلد ۵ ht صداقت احمدیت سهروردی ہو یا دیو بندی ، شیعہ ہو یاستی غرض کسی فرقہ کا ہوا اسے اس امر میں اختلاف نہ ہو گا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سب انبیاء علیہم السلام سے افضل ہیں اور کوئی ایسا عقیدہ درست نہیں ہوسکتا جس سے آپ کی شان اور عظمت کم ہو۔ ہو۔ اب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ہمارے ہمارے زمانہ میں جو ایک اختلاف پیدا ہوا ہے کہ ایک شخص نے دعوی کیا ہے کہ مجھے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں اس دنیا کی اصلاح کے لئے بھیجا گیا ہے اور اس کا دعوی ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع میں اس بات کو مد نظر رکھ کر کہ عیسائیت تمام مذاہب کو عموماً اور اسلام کو خصوصاً کھاتی جا رہی ہے خدا نے میرا نام مسیح رکھا ہے تاکہ میں عیسائیت کو پاش پاش کر کے اس پر اسلام کو غالب کروں اور اس لحاظ سے کہ مسلمان اسلام سے دور ہو گئے ، شریعیت کے احکام کی پابندی نہیں کرتے ، ان کا اکثر حصہ نمازیں نہیں پڑھتا جو پڑھتا ہے وہ طوطے کی طرح پڑھتا ہے ان مفاسد کو دور کرنے کے لئے میرا نام مہدی رکھا گیا ہے ۔ مدعی کا ذب بڑا مجرم ہے اب اگر یہ دعوی کرنے والا جھوٹا ہو تو اس سے بڑھ کر کافر کون ہو سکتا ہے۔ خود خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو شخص یہ کہے کہ مجھے خدا نے الہام کیا حالانکہ خدا نے نہ کیا ہو اور اس کا دعوی جھوٹا ہو تو اس سے بڑھ کر مجرم کون ہو سکتا ہے ؟ ہاں ہر سلمان پر یہ فرض ہے کہ وہ دیکھے اور غور کرے کہ دعوی سچا ہے یا جھوٹا ۔ دیکھو اگر ایک چوہڑا چمار معمولی ڈھنڈورا دیتا پھرے تو لوگ اس کی طرف دوڑتے جاتے اور معلوم کرتے ہیں کہ کیا کہتا ہے ۔ لیکن کسی قدر افسوس کی بات ہے کہ ایک شخص یہ دعوی کرے کہ میں خدا تعالیٰ کی طرف سے دنیا کی اصلاح کے لئے آیا ہوں اس کی طرف توجہ نہ کی جائے ۔ اگر وہ چھوٹا بھی ہو تو خدا تعالیٰ ان لوگوں سے جنہوں نے اس کے دعوای پر غور نہیں کیا ہو گا پوچھے گا کہ تمہیں بغیر غور کئے کسی طرح معلوم ہوگیا کہ یہ چھوٹا تھا ۔ دراصل تمہاری نیت ہی ٹھیک نہ تھی۔ ورنہ تم اس کے دعوئی پر ضرور غور کرتے اور غور کے بعد اس کے جھوٹے یا سچے ہونے کا فیصلہ کرتے ۔ تمہارے دل میں خدا کا میں خدا کا ادب اور توقیر ہی نہ تھی ۔ وہ نہ تھی ۔ ورنہ وہ جس نے خدا کی طرف سے آنے کا دعوی کیا تھا اس کے دعوای کی طرف تم ضرور توجہ کرتے ۔ سعید انسان کی سعادت خدا تعالی کا اب جب انسان کے دل میں ہوتا ہے۔ اس کی عجیب حالت ہوتی ہے۔ ایک دفعہ ایک شخص رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آکر کہا آپ خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر بتائیں کہ آپ نبی ہیں۔ آپؐ نے فرمایا میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں خدا کا نبی ہوں ۔ یہ سن کر اس نے کہا میں آپ کو قبول کرتا ہوں ۔ یہ بھی ادب