انوارالعلوم (جلد 5) — Page 531
انوار العلوم جلد ۵ ۵۳۱ ملائكة الله بقیہ تقریر جو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی نے ۲۹ دسمبر 1971ء کو مسجد نور میں ساڑھے نو بجے فرمائی) تشہد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا :- ایک صاحب نے سوال کیا ہے کہ یہ کیوں نہ مانا جائے کہ اشیاء کے خواص اشیاء سے ہی تعلق رکھتے ہیں اور ملائکہ کے اثر کے نیچے نہیں ہیں ۔ اس بات کے تسلیم کرنے کی کیا وجہ ہے کہ اشیاء کے خواص ملائکہ کے اثر کے نیچے ہوتے ہیں ۔ میں نے ملائکہ کا ثبوت دیتے ہوئے بعض دلائل بیان کئے ہیں اور ان کے ذریعہ ملائکہ کا وجود ثابت کیا ہے اور جب ملائکہ کا وجود ثابت ہو گیا تو خود بخود ان کی ضرورت ثابت ہو گئی اور جب کوئی بات دلائل کے ساتھ ثابت ہو جائے تو پھر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ چونکہ اس کے امکان کی کوئی اور وجہ بھی ہوسکتی کیوں نہ اسی وجہ کو مانا جائے ۔ مثلاً ہوا کاغذ کو اڑاتی اور کا غذ اس کے ذریعہ اڑ کر میز پر پڑ سکتا ہے۔ لیکن اگر کسی شخص کو کا غذ لا کر میز پر رکھتے دیکھ لیں تو یہ سوال نہیں کیا جا سکتا کہ کیوں نہ مانا جائے کہ کاغذہ ہوا ہی اُڑا کر لائی ہے۔ پس جب ملائکہ کا وجود ثابت ہو گیا تو پھر یہ امکان کہ اشیاء کے خواص اشیاء سے ہی تعلق رکھتے ہیں ملائکہ کا ان سے تعلق نہیں باطل ہو گیا ۔ امکان اور ہوتا ہے اور کسی واقعہ کا دلائل سے ثابت ہونا اور ملائی جو کہا جاتا ہے کہ حضرت عیسی آسمان پر نہیں گئے تو اس لئے نہیں کہا جاتا کہ ان کا آسمان پر جانا ممکن نہیں بلکہ اس لئے کہ اس کے خلاف دلائل موجود ہیں تو پھر قیاس نہیں چلایا جا سکتا ۔ قیاس اسی وقت چلتا ہے جب دلائل موجود نہ ہوں قیاس