انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 525 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 525

انوار العلوم جلد ۵ ۵۲۵ ملا مكنه الله مل جاتا ہے اور وہ دوست کی طرح نہیں خادموں کی طرح ساتھ رہتا ہے۔ یہی وہ مرتبہ ہے جس کی وجہ سے حضرت مسیح موعود کو الہام ہوا ۔ کہ آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے۔ ( تذکرہ صفحہ ۳۹۷ ایڈیشن چہارم ، آگ کے غلام ہونے کا یہی مطلب ہے کہ آگ کا فرشتہ آپ کا غلام تھا ۔ اور فَقَعُوا لَهُ سجِدِينَ (الحجر:۲۰) کے بھی یہی معنی ہیں کہ آدم اول کے متعلق فرشتوں کو حکم ہوا کہ اس کے فرمانبردار اور غلام ہو جاؤ ۔ جب آدم اول کے متعلق فرشتوں کو حکم ہوا ۔ تو آدم ثانی رحضرت مسیح موعود ) جو آدم سے شان میں بڑھا ہوا تھا اس کے لئے کیوں یہ نہ کہا جاتا کہ آگ تمہاری غلام بلکہ تمہارے غلاموں کی غلام ہے۔ اس مرتبہ کے انسان کے لئے فرشتہ کی حالت عبد کی سی ہوتی ہے ۔ اور اس کو اس سے علیحدہ ہونے اور اسے چھوڑنے کا اختیار نہیں ہوتا۔ ایک نوکر نوکری چھوڑ کر علیحدہ ہو سکتا ہے مگر فرشتہ علیحدہ نہیں ہو سکتا ۔ یہ انبیاء کا درجہ ہوتا ہے ۔ انی درجوں کے مشابہ شیطان اور انسان کے تعلقات ہوتے ہیں۔ شیطان سے تعلق والوں کا پہلا درجہ شیطانی کا ہوتا ہے ۔ جیسے کوئی سیدھے رستہ پر جا رہا ہوتا ہے اور شریر آدمی اسے کہہ دیتے ہیں کہ ادھر نہ جاؤ بلکہ ادھر جاؤ یونی مسخر سے کہتے ہیں ۔ اگر کوئی ان کی بات ان کی بات مان لیتا ہے تو گمراہ ہو جاتا ہے۔ اسی طرح شیطان ابتداء میں اسی طرح دھوکا دیتا ہے اور جب کوئی اس کے دھو کا میں آجاتا ہے تو اسے گمراہ کر دیتا ہے۔ لیکن اس وقت اس کے ساتھ ملائکہ موجود ہوتے ہیں وہ سیدھے رستہ پر لانے کی کوشش کرتے ہیں۔ مگر جب کوئی بار بار شیطان کی بات ماننے لگتا ہے تو اس حالت سے اور زیادہ بری حالت میں چلا جاتا ہے اور شیطان کے ساتھ بار بار ملنے کی وجہ سے ان کا آپس میں دوستانہ تعلق ہو جاتا ہے نہیں کی نسبت خدا تعالیٰ فرماتا ہے :- وَمَنْ يَكُنِ الشَّيْطَنُ لَهُ قَرِيبًا فَسَاءَ قَرِينَا ٥ ( النساء : ٣٩) که شیطان ان کا قرین بن جاتا ہے اور یہ بہت برا دوست ہے ۔ یہ دوسرا درجہ ہوتا ہے ۔ پھر تیسرا درجہ شروع ہوتا ہے۔ یعنی شیطان آقا بن جاتا ہے اور انسان اس کا غلام۔ ایسے ہی لوگوں کے متعلق خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ عَبَدَ الطَّاغُوتِ میں یعنی وہ شیطان کی عبادت کرتے ہیں اور اس کے غلام ہو جاتے ہیں، گویا وہ جونکی کی طرف جا رہا ہوتا ہے وہ وہ تو آخر آخر تک پر سوا سوار ہو جاتا ہے اور یہ جو بدی کی طرف جا رہا ہوتا ہے اس پر آخر شیطان سوار ہو جاتا ہے۔ اور جو جارہا ہوتا آخر سوار ہو پر