انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 526 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 526

انوار العلوم جلد ۵ org یہ تین سلسلے ہیں نیکی بدی کے جو بندوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ملاكمة الله اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب ہر انسان کی ان حالتوں میں سے کوئی حالت ہوتی ہے تو کیا ہر انسان کے ساتھ علیحدہ علیحدہ فرشتے ہوتے ہیں ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ہاں ہر انسان کے ساتھ علیحدہ علیحدہ فرشتے ہوتے ہیں۔اصل بات یہ ہے کہ جیسا کہ میں پہلے بیان کر آیا ہوں فرشتے دو قسم کے ہوتے ہیں۔ایک تو وہ کہ ہر انسان کے ساتھ ان میں سے ایک ایک دو دو مقرر ہیں۔چنانچہ دا تعالٰی فرماتا ہے :۔إِن كُلُّ نَفْسٍ نَمَا عَلَيْهَا حَافِظُهُ (الطارق : ٥) کوئی نفس نہیں جس پر ایک نگران مقرر نہیں۔اس سے معلوم ہوا کہ ہر انسان کے ساتھ ایک فرشتہ مقرر ہے۔دوسرے فرشتے وہ ہوتے ہیں کہ ان میں سے ہر ایک کا ہر انسان سے تعلق ہوتا ہے اور ہر انسان پر ان کا اثر کم و بیش پڑ رہا ہوتا ہے۔چنانچہ جبرائیل " سب پر اثر ڈالتا ہے۔ایسے فرشتوں کے آگے خادم ہوتے ہیں وہ ان کے اثرات دیگر اشیاء تک پہنچاتے ہیں۔اب سوال ہوتا ہے کہ اگر ایک ہی فرشتہ سب انسانوں پر اثر ڈالتا ہے تو پھر فرشتے نازل کی طرح ہوتے ہیں۔اس کے لئے یاد رکھو کہ ملائکہ کا نزول قرآن کریم کی اصطلاح ہے۔اس کے یہ معنے نہیں کہ ضرور فرشتہ آتا ہے بلکہ یہ ہے کہ دائمی طور پر اثر ڈالتا ہے دیکھو خدا تعالیٰ کے لئے بھی نزول کا لفظ آتا ہے۔حدیثوں میں آتا ہے کہ لیلتہ القدر کے آخری حصہ میں خدا نیچے اُترتا ہے۔اس کا یہی مطلب ہے کہ اس وقت خدا تعالیٰ اپنا بہت زیادہ اثر ڈالتا ہے۔یہی معنے جبرائیل کے نزول کے ہوں گے کہ جبرائیل بھی بذات خود نہیں اترتا کیونکہ وہ تو مقام معلوم پر ہوتا ہے اور اس سے نہیں ہلتا اسی اپنے مقام پر بیٹھا اثر ڈالتا ہے۔دیکھو جب سورج شیشے میں اثر ڈالتا ہے تو یہ نہیں ہوتا کہ اس میں اُتر آتا ہے۔اسی طرح جبرائیل رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس نہیں آتا تھا۔بلکہ اس کا عکس آتا تھا۔انسان کی شکل میں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا تو وہ خود نہیں آیا تھا بلکہ اس نے اپنے اثر سے انسان کی ایک شکل پیدا کی تھی وہ آئی تھی۔ورنہ وہ تو جہاں ہے وہیں موجود رہتا ہے۔نہیں اس کے نزول کے معنے صرف یہ ہیں کہ جس طرح شیشے میں سورج مکس ڈالتا ہے۔اسی طرح جبرائیل ایسے دل میں جو اس کا اثر قبول کرنے کے قابل ہوتا ہے اپنا اثر ڈالتا ہے اور یہی اس کا نزول ہے۔جب یہ نزول ہوتا ہے تب روح القدس انسان کے ساتھ ہو جاتی ہے اور وہ ہر کام اسی کے