انوارالعلوم (جلد 5) — Page 519
انوار العلوم جلد ۵ ۵۱۹ الله شاندار بناتا اور اس سلسلہ کو جو اس کا وجود ظاہر کرتا ہے بالکل محدود کر دیا ۔ پس اسباب کی احتیاج کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ۔ ۔ تیسرا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ ہر چیز کا دنیا میں تمہیں سبب نظر آتا ہے پھر اس بات کو کس طرح مان لیں کہ وہ فرشتوں کے ذریعہ ہوتی ہیں؟ مثلاً آندھی آتی ہے اس کے متعلق ہمیں معلوم ہے کہ جب جو میں بعض خاص قسم کے تغیرات ہوں تو آتی ہے ۔ یا بادل آتے ہیں ہم جانتے ہیں کہ سورج کے ذریعہ پانی کے بخارات اُٹھتے ہیں اور وہی برستے ہیں۔ یہ کس طرح مان ہیں کہ فرشتوں کے ذریعہ ایسا ہوتا ہے ؟ یہ جہالت کی باتیں ہیں اور اُس زمانہ کی ہیں جب کہا جاتا تھا کہ فرشتہ سمندر سے پانی پی کر آتا ہے اور پھر آ کر بارش برساتا ہے اس قسم کی باتیں اب علم اور تحقیقات کے زمانہ میں کون مان سکتا ہے ؟ مگر اس اعتراض کے پیش کرنے والوں نے فرشتوں کے متعلق جو صحیح عقیدہ ہے ۔ اس کو سمجھا نہیں ۔ ہم یہ نہیں کہتے کہ بارش برسنے کا قریبی سبب فرشتہ ہے اور فرشتہ سمند رو سے پانی لاکر برساتا ہے بلکہ ہم کہتے ہیں کہ ان بخارات کو قائم کرنے والا فرشتہ ہے جن سے بارش بنتی ہے ۔ ہم تو آخری سبب کو فرشتہ کہتے ہیں نہ یہ کہ کوئی اور سبب ہی نہیں ہوتا۔ ہر چیز کے سبب ہیں مگر سب اسباب کے آخر میں فرشتہ کام کر رہا ہوتا ہے ۔ یہ ٹھیک ہے کہ مختلف تغیرات اسباب کے ماتحت ہوتے ہیں اور ایک سیب کے پیچھے دوسرا ، دوسرے کے پیچھے تیسرا، حتی کہ سینکڑوں ایسے دی سبب بھی ہوں گے جن کو دنیا جانتی بھی نہیں ۔ مگر سب کے پیچھے فرشتہ ہو گا۔ درمیانی اسباب خواہ کروڑوں ب ہوں گے جن کو دنیا بھی ہوں ہم ان کا انکار نہیں کرتے لیکن سب کے آخر میں فرشتہ مانتے ہیں۔ چوتھا اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ جو تغیرات ہوتے ہیں ۔ وہ مقررہ قانون کے ماتحت ہوتے ہیں کیا ہے کہ جوا مثلاً کسی کو تپ چڑھتا ہے اگر تپ چڑھانے والا فرشتہ ہے تو کوئین دینے سے کیوں اتر جاتا ہے؟ علاج سے مرض دور ہو جاتی ہے تو کس طرح کہا جا سکتا ہے کہ فرشتے نے تپ چڑھایا ؟ اسی طرح اگر کھانسی فرشتہ لگاتا ہے۔ تو دوائی دینے سے کیوں دور ہو جاتی ہے ؟ کیا اس وقت فرشتہ بھاگ جاتا ہے ؟ اور جب یرا یہ اعتراض بھی جاہلانہ ہے کیونکہ ہم یہ نہیں کہتے کہ فرشتے کوئی قادر مطلق ہستی ہیں بلکہ ہم تو یہ کہتے ہیں کہ فرشتے خواص الاشیاء کو ظاہر کرتے ہیں۔ جب کوئی شخص ان اشیاء کو استعمال کرتا ہے جن کے نتیجہ میں تپ چڑھایا جانا مقدر ہے تو جو فرشتہ ان اشیاء کے خواص کے ظہور کے ابتدائی اسباب