انوارالعلوم (جلد 5) — Page 505
انوار المعلوم جلد ۵ ۵۰۵ ملائكة الله مگر اسی زمانہ میں لوگ حضرت مسیح موعود کی غلامی میں داخل ہو رہے ہیں ۔ اور جو بعد میں داخل ہوتے ہیں انہیں افسوس ہوتا ہے کہ ہم نے پہلے کیوں نہ آپ کو مان لیا ؟ یہ ملائکہ ہی کی پھیلائی ہوئی محبت ہے ۔ خدا تعالیٰ کے پیاروں کی صداقت کی یہ ایک لطیف دلیل ہے جھوٹے مدعی اُٹھتے ہیں بڑا شور مچاتے ہیں لیکن انہیں کوئی پوچھتا تک نہیں ۔ اسی زمانہ میں ایک ظہیر الدین اروپی اور دوسرا عبد الله تیما پوری ہے بار ہا انہوں نے اپنے متعلق ٹریکٹ لکھ لکھ کر چھپوائے اور شائع گئے ۔ مگر کوئی ان کی طرف توجہ بھی نہیں کرتا۔ مگر حضرت مسیح موعود کے متعلق دیکھو کس طرح آپ کی محبت دنیا میں پھیلی ؟ اور پھیل رہی ہے ۔ پندرہ ہواں کام ملائکہ کا یہ ہوتا ہے کہ کبھی ملائکہ کو خدا کے پیاروں کی خدمت میں لگا دیا جاتا ہے اور ناموروں کے خادم اور غلام بنا دیئے جاتے ہیں ۔ جیسا کہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے :- وَإِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَئِكَةِ إِنِّي خَالِقٌ بَشَرًا مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَإٍ مَسْنُونِ ، فَإِذَا سَوَيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيْهِ مِنْ رُوحِي فَقَعُوا لَهُ سَجِدِينَ ٥ (الجبر : ۲۹ - ۳۰) خدا تعالیٰ نے ملائکہ کو کہا کہ مٹی سے بشر بنانے والا ہوں ۔ جس وقت میں اس کو بنا چکوں اور اس پر اپنا کلام نازل کروں یعنی اسے نبی بناؤں اس وقت تم اس کی غلامی میں جھک جانا گویا ملائکہ کونی کی غلامی میں دیا جاتا ہے اور وہ نبی کے مقام سے نیچے آجاتے ہیں۔ سولہواں کام ملائکہ کا یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کوعلم سکھاتے اور تعلیم دیتے ہیں یعنی ان کو مقرر کیا جاتا ہے کہ وہ لوگ جو علم کی طرف توجہ کرنے والے ہوں ان کے قلوب پر علم کی روشنی ڈالتے رہو ۔ چنانچہ حدیثوں میں آتا ہے کہ جبرائیل رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس متمثل ہو کر آئے اور سوال کیا یا رسول اللہ ایمان کیا ہے ؟ دین کیا ہے ؟ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم جواب دیتے رہے جب چلے گئے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ کو فرمایا جانتے ہو یہ کون تھا ؟ انہوں نے کہا یا رسول اللہ ہم تو نہیں جانتے آپ ہی بتائیے - آپ نے فرمایا یہ جبرائیل تھا جو تمہیں دین سکھانے کے لئے آیا تھا ۔ ر بخاری کتاب الایمان باب سوال جبريل النبي عن الايمان والإسلام ) تو ملائکہ کا یہ بھی کام ہوتا ہے کہ علوم سکھاتے ہیں۔ مگر دینی علوم ہی نہیں ۔ دنیا کے معاملات کے متعلق علوم بھی سکھاتے ہیں حتی کہ کافروں کو بھی سکھاتے ہیں ہیں نے ایڈیسن کی ایک کتاب پڑھی ہے۔ وہ لکھتا ہے کوئی ایک بات بھی ایسی نہیں جو میں نے ایجاد کر کے نکالی ہو ۔ ایک دم میرے دل میں آکر ایک بات