انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 482 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 482

انوار العلوم جلد ۵ ۴۸۲ ملائكة الله خدا نے تقدیر کے ذریعہ کسی کے لئے عذاب نہیں مقرر کر چھوڑا اور ایسا نہیں ہے کہ انسان عذاب سے بچ نہ سکے تو ان خیالات کے باعث جو تقدیر کے متعلق عام طور پر پھیلے ہوئے ہیں جو بوجھو نظر آتا تھا وہ اُتر جاتا تھا اور اس وجہ سے اس مسئلہ کی طرف توجہ قائم رہتی تھی اور لوگ غور سے سنتے اس تھے۔ مگر ملائکہ کو چونکہ غیر متعلق چیز سمجھا جاتا ہے اور ان کی کوئی ضرورت بھی نہیں سمجھی جاتی ۔ اس لئے شائد توجہ نہ رہے ۔ پھر ملائکہ کے متعلق عام مصنفین نے بھی کچھ نہیں لکھا ۔ انہوں نے ان کی کیفیت کو سمجھا ہی نہیں ۔ حالانکہ ان سے انسان کو ایسے ایسے فوائد پہنچ سکتے ہیں کہ اگر معلوم ہو جائیں تو لوگ بیاب ہو کر ایسی کتابوں کو پڑھیں جن میں ان کا ذکر ہوتا ہے۔ صوفیاء نے ان کے ذکر کو لیا ہے اور اپنی تصنیفوں میں بیان کیا ہے مگر پھر بھی بہت تھوڑا بیان کیا ہے ۔ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد اگر کسی انسان نے سب سے زیادہ ان کے متعلق بیان کیا ہے تو مسیح موعود نے ہی بیان کیا ہے۔ اور آپ ہی نے آکر ان کی حقیقت کے راز سر بستہ کو کھولا ہے۔ رسول کریم صلی الہ علیہ وسلم اور مسیح موعود کے درمیان اور کسی نے نہیں کھولا ۔ قرآن کریم نے ان کی حقیقت کو کھولا ہے یا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کلمات میں ان کا ذکر ہے ۔ باقی صوفیاء کے کلام میں بھی ان کا ذکر ہے مگر بہت کم ۔ اور دوسرے مصنفین نے تو ان کا ذکر ہی نہیں کیا۔ معمولی معمولی باتوں کے متعلق تو انہوں نے بیسیوں قصے بیان کر دیتے مگر ملائکہ کی نسبت اس طرح چپ چاپ گزر گئے کہ گویا یہ رانہوں کوئی چیز ہی نہیں ۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ ان کی حقیقت بیان کرنا بہت مشکل کام تھا اور ان ہی ۔ یہی میں بیان کرنے کی طاقت نہ تھی ۔ لیکن اب چونکہ ایسا زمانہ آگیا ہے کہ ہر چیز کی حقیقت کو کھول دیا جائے تاکہ کسی کو کسی مسئلہ پر حملہ کرنے کی جرات نہ رہے اس لئے خدا تعالیٰ نے ایسے سامان پیدا کر دیتے ہیں کہ ملائکہ کی حقیقت سے بھی دنیا آگاہ ہو جائے۔ آج کل کے مسلمانوں کے وہی فرشتے چند ہی دن ہے چند ہی دن ہوئے ایک آریہ نے بیان کیا کهہ مسلمان اسلام سے بدظن ہو رہے ہیں اور ہورہ اس کے ثبوت میں یہ بات بھی پیش کی ہے کہ سید امیر علی صاحب نے جو مسلمان ہیں لکھا ہے کہ فرشتے ایک وہی چیز ہیں ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے ۔ اس میں شک نہیں کہ آج کل کے مسلمان کہلانے والوں کے ذہن میں جو فرشتے ہیں وہ وہمی ہی ہیں ۔ کیونکہ انہیں کچھ پتہ نہیں ہے کہ فرشتے کیا ہیں ؟ ان پر ایمان لانے کی کیا ضرورت ہے ؟ ان کے کیا فوائد ہیں ؟ نگر میں نے جیسا کہ ابھی بتایا ہے جو بات بھی نه