انوارالعلوم (جلد 5) — Page 451
انوار العلوم جلد ۵ رکھتا ہے ۔ چھٹا فائدہ ۴۵۱ اصلاح نفس چھٹا فائدہ یہ ہے کہ انسان پوری طرح اس وقت تک کوئی کام نہیں کر سکتا جب تک اس کام کی اہمیت اس کے ذہن نشین نہ ہو ۔ باہر رہ کر پتہ نہیں لگ سکتا کہ کسی طرح کوئی کام کرنا ہے ؟ خواہ کتنا ہی شور ڈالا جائے اور کتنے ہی زور کے ساتھ آگاہ کیا جائے پھر بھی باہر والوں کو پورا پورا پتہ نہیں لگ سکتا ۔ یہاں ایک ایک رات میں ایسا کام آپڑتا ہے کہ جس کی وجہ سے انسان کا خون خشک ہو جاتا ہے ۔ مگر اس بات کو وہی سمجھ سکتا ہے جو یہاں رہتا ہو۔ پچھلے ہی دنوں تبلیغ کے رستہ میں ایک روک پیش آگئی ۔ اسی سے میری طبیعت خراب ہوگئی۔ عام طور پر مجھے قبض رہی ہے مگر اس کی وجہ سے اسہال شروع ہو گئے ۔ اس بات سے باہر کے لوگ بالکل نا واقف ہیں مگر یہاں کے لوگوں میں کسی نہ کسی طرح اس کی بھنک پڑ گئی اور ان پر اس کی اہمیت ظاہر ہو گئی ۔ تو یہاں کی ضروریات اور یہاں کے کاموں کی اہمیت وہی سمجھ سکتے ہیں جو یہاں آکر رہیں اور جب یہاں آکر کاموں کی اہمیت سے آگاہ ہوں گے تو ان میں کام کرنے کا جوش اور ولولہ بہت زیادہ پیدا ہوگا ۔ ساتواں فائدہ یہ ہے کہ بعض باتیں مرکزی امور سے تعلق رکھتی ہیں اور انفرادی کاموں ساتواں فائدہ کی برکتیں ان کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔ دیکھو انفرادی طور پر ایک سپاہی لڑ کر جان بھی دے دیتا ہے مگر ملک اس کی اتنی قدر نہیں کرتا جتنی وزیر جنگ کی کرتا ہے۔ کیونکہ وزیر مرکزی بوجھ کو اُٹھائے ہوئے ہوتا ہے ۔ تو باہر جو لوگ کام کرتے ہیں وہ انفرادی حیثیت رکھتے ہیں۔ مگر میاں جو کام کرتے ہیں وہ مرکزی کام کر کے مرکزی برکات سے فائدہ اُٹھا لیتے ہیں ۔ یہاں آنے کی یہ سات برکات ہیں جو نفس کی اصلاح سے تعلق رکھتی ہیں ۔ اپنے نفس کی اصلاح کے بعد دوسری بات دوسروں دوسروں کی اصلاح کی کوشش کرو یا روایت کی ہے کو نفع پہنچانا ہے اور یہ چیز بھی دو قسم کی ہے پہلی باتیں تو عمل خیر تھیں اور یہ ایصال خیر ہیں ۔ جو دو طرح پر ہوتا ہے ۔ ایک جسمانی طور پر اور دوسرا روحانی طور پر جسمانی یعنی جسم کو فائدہ پہنچانا اور روحانی یعنی روح کو فائدہ پہنچانا ۔ جسمانی کی ایک مثال بیان کرتا ہوں کہ ساری تعلیم بیان کرنے کے لئے وقت نہیں ہے اور یہ زکوۃ خیرات اور چندہ دینا ہے جنہیں شریعت نے ضروری قرار دیا ہے ۔