انوارالعلوم (جلد 5) — Page 436
انوار العلوم جلد ۵ ۴۳۶ اصلاح نفس تو ان لوگوں نے آپ نذریں مقرر کر کے کہہ دیا کہ خدا نے مقرر کیں ہیں ۔ اس سے ظاہر ہے کہ جھوٹ بولنے والے خدا تعالیٰ پر جھوٹ بولنے سے بھی باز نہیں رہتے ۔ پس چونکہ یہ ایسی بات ہے کہ اس میں انسان بڑھتے بڑھنے خدا تعالیٰ تک پہنچ جاتا ہے اس لئے اس کو بالکل چھوڑ دینا چاہئے۔ اور یہ ایسے عیوب میں سے ہے کہ اگر انسان اس سے بچ جائے تو اور سینکڑوں عیوب سے بیچ سکتا ہے ۔ سخت کلامی اور درشتی سے کام نہ لو تیری بات جو قابل ترک ہے وہ سخت کلامی اور درشتی ہے ۔ یہ بھی بہت بڑا عیب ہے بہت لوگ ہیں جو اپنے بھائی کے احساسات کا خیال نہیں رکھتے ۔ ذرا ذرا سی بات پر گالی دے دیتے ہیں یا سخت کلامی سے پیش آتے ہیں ۔ مثلاً بجائے اس کے کہ مجلس میں آکر کہیں جگہ دیجئے۔ یہ کہ دینگے کہ کسی طرح لہاں پیار کے بیٹھے ہوئے ہو یعنی پاؤں پھیلا کر کیوں بیٹھے ہو ؟ ایسے لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ اگر کسی سے کوئی مطالبہ کریں گے تو سختی سے اور اگر کسی کا کچھ دینا ہو گا تو اس سے بھی لڑیں گے ۔ ان میں نرمی ، محبت اور آشتی نہیں ہوگی ۔ حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ لڑائی، زنگا اور فساد ایسی ناپسندیدہ باتیں ہیں کہ جہاں یہ ہوتی ہیں وہاں سے خدا تعالیٰ کی برکتیں جاتی رہتیں ہیں۔ اور آپ نے ان کی برائی یہاں تک بیان فرمائی ہے کہ ایک دفعہ آپ رات کو باہر نکلے اور دیکھا کہ دو آدمی لڑ رہے ہیں ۔ آپ نے ان کو مخاطب کر کے فرمایا خدا تعالیٰ نے مجھے لیلۃ القدر کی گھڑی بائی تھی لیکن تمہاری لڑائی دیکھ کر مجھے بھول گئی ہے یہ اب غور کرو ان کی لڑائی کس قدر نقصان دہ ثابت ہوئی کو نسل در نسل اس کا اثر چلے گا۔ پھر فرمایا اچھا رمضان کے آخری عشرہ میں تلاش کرو۔ اگر وہ نڈ لڑ رہے ہوتے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو لیلۃ القدر کے متعلق جو بتایا گیا تھا وہ آپ بتا دیتے تو کیسی آسانی ہوتی اور مسلمان اس سے کسی قدر فائدہ اُٹھاتے ؟ اب ہر ایک کے لئے دس راتوں میں جاگنا مشکل بات ہے ۔ دو آدمیوں کے جھگڑے نے کتنا نقصان پہنچایا ؟ تم کسی پر درشتی اور سختی نہ کرو بلکہ ہر ایک کے ساتھ نرمی سے پیش آؤ ۔ اس میں دونوں کا فائدہ ہے لیکن اگر ایک درشتی کرتا ہے تو دوسرے کو چاہئے کہ نرمی اختیار کرے ۔ اس طرح درشتی کرنے والا خود بخود شرمندہ اور نادم ہو گا اور معافی مانگے گا۔ ورنہ اگر دوسرا بھی درشتی کرے گا اور اس طرح بات بڑھے گی تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ دونوں کا ایمان جاتا رہے گا اور دونوں کو نقصان اُٹھانا پڑے گا ۔ عه بخاری کتاب الصوم باب رفع معرفة ليلة القدر التلاحي الناس