انوارالعلوم (جلد 5) — Page 435
انوار العلوم جا ۴۳۵ اصلاح نفس صاحب فرماتے ہیں تقریر چونکہ انگریزی میں تھی اس لئے میں اور تو کچھ نہ سمجھتا لیکن جب حاکم تقریر کے متعلق NO NO (نو - نو ) کہتا تو اس لفظ کو سمجھتا۔آخر جب تقریر ختم ہوئی تو حاکم نے کہہ دیا۔بری۔اور کہا کہ جب اس نے اس طرح سچ سچ کہ دیا تو میں بری ہی کرتا ہوں۔ہنسی میں جھوٹ پھر لوگ سہنسی مذاق میں جھوٹ بول لیتے ہیں۔مگر یہ بھی نا جائز ہے اور پیچی جھوٹ ہی ہے اس سے بھی بچنا چاہئے۔پھر جھوٹ کی خاص قسم جھوٹی گواہی ہے اور میں دیکھتا ہوں کہ خداتعالی کا جھوٹی گواہی بڑا ہی فضل ہو تو کوئی اس سے بیچ سکتا ہے۔وہ لوگ جو اور باتوں میں جھوٹ نہیں بولتے وہ بھی اس مرحلہ پر آکر رہ جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم نے اس لئے جھوٹی گواہی دے دی کہ فلاں بھائی ناراض نہ ہو جائے۔مگر اس میں بھی خوب مضبوطی کے ساتھ صداقت پر قائم رہنا چاہئے۔کئی لوگ ہیں جو اس لئے جھوٹی گواہی دیتے ہیں کہ دوسرے کا منہ رکھیں اور اس کو ناراض نہ ہونے دیں۔مگر اس سے زیادہ نادان اور بے وقوف کون ہو گا جو دوسرے کا منہ رکھنے کے لئے اپنا منہ کالا کرے لیکن بہت ہیں جو اس بات کی پرواہ نہیں کرتے۔تمہیں چاہئے کہ خواہ تمہارے ماں باپ کے خلاف گواہی ہو یا بھائی کے خلاف یا اور کسی عزیز اور رشتہ دار کے خلاف تم کبھی اس کو نہ چھپاؤ اور نہ اس میں جھوٹ ملاؤ بلکہ سچ سچ کہہ دو۔قرآن کریم میں مومن کی یہ علامت بتائی گئی ہے کہ ماں باپ بہن بھائی جس کے متعلق بھی اسے کوئی گواہی دینی ہو سچی کچی دیتا ہے۔اور خدا تعالیٰ فرماتا ہے جو گواہی کو چھپاتا ہے اس کا دل گند گار ہو جاتا ہے اور جب دل گنہگار ہو گیا تو سب کچھ خراب ہو گیا۔یہ بھی بہت برا کام ہے اس سے بچنا چاہئے۔ورنہ اس میں بھی بڑھتے بڑھتے انسان رسول اور خدا تک پہنچ جاتا ہے۔یہ جو جھوٹی حدیثیں بنی ہیں وہ ایسے ہی لوگوں نے بنائی ہیں جن کو جھوٹ بولنے کی عادت تھی۔اور پھر جھوٹ بولنے والے خدا تعالیٰ کے متعلق بھی جھوٹ سے دریغ نہیں کرتے۔چنانچہ آتا ہے۔ما جَعَلَ اللَّهُ مِنْ بَحِيرَةٍ وَلَا سَائِبَةٍ وَلَا وَصِيلَةٍ وَلَا حَامٍ وَلَكِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا يَفْتَرُونَ عَلَى اللهِ الكَذِبَ ، وَاَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ ٥ (المائده : ۱۳) کہ یہ جو نذریں نیازیں سانڈوں وغیرہ کی دی جاتی ہیں یہ خدا نے مقرر نہیں کیں۔یہ ان لوگوں نے جو کافر ہیں آپ مقرر کرلی ہیں اور خدا تعالیٰ ی پر جھوٹا افتراء باندھ دیا ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں سے اکثر بے وقوف ہیں۔