انوارالعلوم (جلد 5) — Page 434
انوار العلوم جلد ۵ یوی اصلاح نفس علم کے پاس آیا اور کہا کہ ان گناہوں میں سے میں نے کوئی بھی نہیں کیا اور سب مجھ سے چھوٹ ہیں۔تو جب کوئی شخص جھوٹ چھوڑ دیتا ہے پھر سب گناہ اس سے چھوٹ جاتے ہیں۔لوگ جھوٹ کیوں بولتے ہیں ؟ سمجھ میں نہیں آتاکہ لوگ جھوٹ بولتے کیوں میں جس آدمی کے متعلق معلوم ہو جائے کہ جھوٹ کا عادی ہے وہ خواہ کوئی بات سنائے اس کی بات پر تسلی نہیں ہوتی اور نہ اس کو کوئی فائدہ ہوتا ہے۔مگر پھر بھی بالعموم لوگ جھوٹ بولتے ہیں اور ایسی ایسی باتوں میں جھوٹ بولتے ہیں جن میں وہ خود بھی سمجھتے ہیں کہ کوئی نفع نہیں ہوگا۔مثلاً یونی ایک شخص کہہ دے گا میں فلاں فلاں جگہ گیا یا فلاں فلاں کام کیا۔حالا نکہ ان باتوں کا کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ایسے لوگوں کو محض عادت ہوتی ہے کہ نخواہ مخواہ جھوٹ بولتے ہیں۔یہ ایک خطرناک مرض ہے اور اس کا چھوڑ نا بھی مشکل کام ہے اس لئے اس کو چھوڑنے کے لئے خاص کوشش کرنی چاہئے۔بے شک خالص جھوٹ بہت کم لوگ بولتے ہیں۔کامیابی جھوٹ نہ بولنے میں ہے جہاں نقصان کا اندیشہ ہو صرف وہاں ایسا جھوٹ بولتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اس طرح ہم نقصان سے بچ جائیں گے اور اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائیں گے۔مگر یاد رکھنا چاہئے کہ کامیابی جھوٹ کے نہ بولنے میں ہی ہوتی ہے۔حضرت صاحب کا ہی واقعہ ہے۔آپ نے ایک پیکٹ میں خطہ ڈال دیا۔اس کا ڈان ڈاکخانہ کے قواعد کی رو سے منع تھا مگر آپ کو اس کا علم نہ تھا۔ڈاکخانہ والوں نے آپ پر ناش کردی اس کی پیروی کے لئے ایک خاص افسر مقرر کیا کہ آپ کو منرا ہو جائے اور اس پر بڑا زور دیا اور کہا کہ ضرور سزا ملنی چاہئے تاکہ دوسرے لوگ ہوشیار ہو جائیں۔حضرت صاحب کے وکیل نے آپ کو کہا کہ بات بالکل آسان ہے آپ کا پیکیٹ گواہوں کے سامنے تو کھولا نہیں گیا۔آپ کہہ دیں کہ میں نے خط الگ بھیجا تھا شرارت اور دشمنی سے کہا جاتا ہے کہ پیکیٹ میں ڈالا تھا۔حضرت صاحب نے فرمایا یہ تو جھوٹ ہوگا۔وکیل نے کہا اس کے سوا تو آپ بچ نہیں سکتے۔آپ نے فرمایا خواہ کچھ ہو میں جھوٹ تو نہیں بول سکتا۔چنانچہ عدالت میں جب آپ سے پوچھا گیا کہ آپ نے پیٹ میں خط ڈالا تھا ؟ تو آپ نے فرمایا۔ہاں میں نے ڈالا تھا مگر مجھے ڈاکخانہ کے اس قاعدہ کا علم نہ تھا۔اس پر استغاثہ کی طرف سے لمبی چوڑی تقریر کی گئی اور کہا گیا کہ مزا ضرور دینی چاہئے۔تاکہ دوسرے لوگوں کو عبرت ہو۔حضرت