انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 417 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 417

انوار العلوم جلد ۵ بڑے منصوبے باندھتے رہتے ہیں حتی کہ یہی حکام بھی جو ظاہر میں جا کر گورنمنٹ کے حامی ہونے کام بھرتے ہیں گھر میں آکر ہمیں گالیاں دیتے اور طرح طرح کی تکالیف پہنچاتے ہیں کہ ہم کیوں گورنمنٹ کے وفادار ہیں ؟ ہر محکمہ میں ایسے لوگ موجود ہیں جو گورنمنٹ سے تنخوا میں پاتے ہیں اور گورنمنٹ کی وفاداری کے دعویدار ہیں۔مگر ہماری جماعت سے اس لئے دشمنی کرتے ہیں کہ ہم کیوں گورنمنٹ کی وفاداری کرتے ہیں۔ایسے لوگ محکمہ پولیس میں بھی ہیں مجسٹریٹ بھی ہیں پروفیسر بھی ہیں اور دیگر صیغوں میں بھی ہیں جو ہمارے متعلق شکائتیں کرتے رہتے ہیں کہ اصل میں یہی جماعت گورنمنٹ کی بدخواہ ہے وہ یہ حرکت اس لئے کرتے ہیں کہ گورنمنٹ ہمارے خلاف کوئی ناروا کا رروائی کرے اور ہم اس وجہ سے گورنمنٹ سے بددل ہو کر ان کے ساتھ مل جائیں۔مگر انہیں یاد رکھنا چاہتے کہ م گورمنٹ کی وفاداری اس لئے نہیں کرتے کہ ہمیں کوئی خاص رعایتیں حاصل میں یا ہم کوئی خاص فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں۔بلکہ ہم تو اس لئے کرتے ہیں کہ خدا کی طرف سے ہمیں یہی حکم ہے۔پس تم گورنمنٹ کی وفاداری کسی فائدہ کی غرض سے نہیں کرتے اور نہ کسی رعایت کی وجہ سے کرتے ہیں اور نہ ہم اس کی ناراضگی سے ڈرتے ہیں۔ہم تو اس لئے اس کی وفاداری کرتے ہیں کہ اگر ہم ایسا نہ کریں گے تو خدا تعالیٰ ہم سے ناراض ہو گا۔کیونکہ خدا نے حکام کی اطاعت کرنے کا حکم دیا ہے ورنہ اگر یہ نہ ہوتا اور ہمیں خدا کی ناراضگی کا ڈر نہ ہوتا تو ہم بھی سیاست کے معاملات میں وہ راہ اختیار کر لیتے جسے خود گورنمنٹ بھی جائز قرار دیتی ہے۔ذرا سوچو تو سہی کہ گورنمنٹ ہمیں کیا دے رہی ہے اور کیا دے سکتی ہے ؟ جب کبھی ہماری جماعت کو کسی جگہ تکلیف پہنچی ہے اور ہم نے گورنمنٹ کے آفیسروں کو توجہ دلائی ہے۔انہوں نے یہی کہہ دیا ہے کہ ہم کچھ نہیں کر سکتے۔تو گورنمنٹ نہیں کیا دے رہی ہے ؟ کہ اس کی وجہ سے ہم اس کے وفادار ہیں۔دراصل ہمارا گورنمنٹ پر احسان ہے اس کا ہم پر کوئی احسان نہیں جس میں اور لوگ حصہ دار نہیں ہیں۔اگر ہم ریل ڈاک تار وغیرہ سے فائدہ اُٹھاتے ہیں تو کیا مسٹر گاندھی ان سے فائدہ نہیں اُٹھا رہے ؟ اگر ہم گورنمنٹ کے قائم کردہ سکولوں اور کالجوں میں پڑھتے ہیں تو کیا اور لوگ نہیں پڑھتے ؟ تار ، ڈاک ، ریل وغیرہ چیزوں سے فائدہ تو خونی اور ہم BOMB مارنے والے بھی اُٹھا رہے ہیں پھر ہم پرگورنمنٹ کا کون سا خاص احسان ہے کہ ہم اس کی خوشامد کریں ؟ کوئی بھی ہیں پس دنیا کی کوئی حکومت نہیں جو ہمارا سرا اپنی طاقت اور قوت کے زور سے اپنے آگے جھکا سکے۔مومن کا سر کسی دنیاوی طاقت کے آگے کبھی نہیں جھک سکتا۔اگر