انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 407 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 407

انوار العلوم جلد ۵ ۴۰۷ اصلاح نفس بہت بڑا فضل نہیں ہے ؟ کہ اس وقت جب کہ دنیا طرح طرح کی تاریکیوں میں گرفتار ہے اور قسم قسم کی ظلمتوں میں پڑی ہوئی ہے اس نے حضرت مسیح موعود کے ذریعہ نہیں ایسی روشنی عطا کی ہے کہ ہم پر ان ظلمتوں اور تاریکیوں کا کوئی بھی اثر نہیں ہے۔ ذرا خیال تو کرو کہ ایک تاریک رات میں جب کہ لوگ کہ ایک تاریک ٹھوکریں کھا رہے ہوں ، گڑھوں میں گر رہے ہوں ، ایک ایسا سورج چڑھے جس کی روشنی صرف تمہیں ہی پہنچے اوروں کو نہ پہنچے تو اس وقت تم کس قدر خوش ہو گے ؟ اور کس قدر خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرو گے ؟ اور خواہ تم کتنا ہی شکر کرو یقیناً تم شکر کا حق ادا نہیں کر سکتے ۔ مگر افسوس بہت ہیں جن پر خدا کا ایسا ہی فضل ہوا ہے مگر انہوں نے اس کو سمجھا نہیں کہ خدا نے ان پر کتنا بڑا فضل کیا ہے ۔ یہ میں نے چھوٹی سی مثال بیان کی ہے کہ تاریکی ہو، لوگ ٹھوکریں کھا رہے ہوں ، اس وقت سورج چڑھے جس کی روشنی تمہیں ہی ملے ۔ اور تم بڑے آرام اور اطمینان کے ساتھ چلے جاؤ تو تم کتنے خوش ہو گئے ؟ اور تمہارا کتنا ایمان بڑھے گا ؟ یا ایک جنگ کا میدان گرم ہو ، سینکڑوں آ م ہو، سینکڑوں آدمی تمہارے دائیں بائیں گر رہے اور کچلے جا رہے ہوں مگر تمہارے اوپر جو گولی لگے وہ پانی کی طرح بہہ جائے اور تمہیں اس سے ذرا بھی صدمہ نہ پہنچے تو بتاؤ اس وقت کس قدر شکر کی لہر تمہار سے اندر پیدا ہوگی ؟ اور تا اب بتاؤ ۔ خدا نے جو فضل تم پر کیا ہے ۔ کیا وہ اس سے بڑھ کر نہیں ہے ؟ اس روحانی حکمت تاؤ۔ خدا نے جو تم پر کیا کیا وہ اس سے نہیں ہے ؟ تاریخی کے زمانہ میں خدا تعالیٰ نے ایک سورج چڑھایا جس کی برکت سے تم راستہ دیکھتے اور ٹھوکروں سے تم سے بیچ رہے ہو ، لیکن کیا تم نے کبھی یہ خیال کیا ہے کہ اس خطر ناک جنگ میں جس میں شیطانی فوج نے اپنی پوری ری طاقت سے روحانیت پر خطر ناک حملہ کیا ہے اور یکے بعد دیگر سے جوان اور یکے بعد دیگر سے جوان گھر رہے ہیں۔ تم پر ہیں تم کوئی شیطانی گولی اثر نہیں کرتی اور تم صحیح و سال ہو۔ یہ تم پر کتنا بڑا فضل ہے ؟ اس نقشہ کو اپنے دل میں جماؤ اور پھر دیکھو کہ خدا تعالیٰ کا شکر کس قدر تمہارے دل میں پیدا ہوتا ہے ؟ یہ مہنسی نہیں ۔ یہ کھیل نہیں ۔ یہ معمولی بات نہیں ۔ ہمیں ضرور خدا تعالیٰ کے آگے شکریہ کے طور پر جھک جانا چاہئے کیونکہ اگر اس کا فضل نہ ہوتا ، اس کا رحم نہ ہوتا ، اس کی بندہ نوازی نہ ہوتی تو اس خطرناک جنگ میں ہمارے محفوظ رہنے کی کوئی بھی وجہ نہ تھی ۔ ظاہری علم ہمارے پاس دوسروں سے زیادہ نہیں، مال ہمارے پاس نہیں دنیادی عزت ہمارے پاس نہیں ، دنیاوی سامان ہمارے پاس نہیں، دنیا وی طاقت ہمارے پاس نہیں غرض کوئی بھی سامان ہمارے پاس نہیں یہ محض اس کا فضل اور اس کا احسان ہی ہے کہ اس نے اس خطر ناک موقع پر ہمیں بچا لیا ہے اور ہمیں حضرت مسیح موعود کی