انوارالعلوم (جلد 5) — Page 406
انوار العلوم جلد ۵ اصلاح نفس يومَ القِيمَةِ إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَه فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ أَنِّي لَا يُضِيحُ b 7 عَمَلَ عَامِلٍ مِنكُمْ مِنْ ذَكَرٍ أَو أُنثَى بَعْضُكُمْ مِنْ بَعْضٍ : فَالَّذِينَ هَاجَرُوا وَاخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ وَ أَو ذُوا فِي سَبِيلِي وَقتَلُوا وَ قُتِلُوا لا كَفَرَتَ عَنْهُم سياتِهِمْ وَلَا دَخِلَنَّهُمْ جَتْتٍ تَجْرِى مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَرُ ثُوَابًا مِّنْ عِنْدِ اللهِ وَاللهُ عِندَهُ حُسنُ الثَّوَابِ (ال عمران : ۱۹۱ تا ۱۹۹) b حضرت مسیح موعود کے بوٹے ہوئے بیج کا درخت بن گیا سب سے پہلے تو میں اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ جس نے اس بیج کو جسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک دن نہایت سختی اور شدت کے زمانہ میں لوگوں کی خطرناک مخالفت کے باوجود ایسی حالت میں کہ لوگوں کی صرف دنیاوی سامانوں پر ہی نظر تھی اور خدا تعالیٰ کی طرف سے مایوس ہو چکے تھے بویا تھا بار آور کیا اور اس سے ایسا درخت پیدا کر دیا ہے جو روز بروز اس کے فضل اور رحم کے ساتھ بڑھتا جارہا ہے اور بڑھتا جائے گا۔یہ خدا تعالیٰ کا بہت بڑا فضل اور احسان ہے کہ اس نے ہمیں ناکامی کے غار سے نکال کر کامیابی کے کے راستہ پر چلا دیا ہے۔آج سے نہیں سال قبل جب حضرت صاحب نے دعوی کیا تھا کون شخص تھا جو خیال میں بھی لا سکتا تھا کہ اس کی ایک عظیم جماعت قائم ہو جائے گی ؟ مگر خدا کی باتیں پوری ہو کر رہتی ہیں اور مرزبانہ میں ہی ہوتا رہا ہے کہ وہ پتھر جس کو معماروں نے رد کر دیا خدا نے اسی کو کونہ کا پتھر قرار دیا اور اسی پر عظیم الشان عمارت کی بنیاد رکھی۔ایسا ہی اس زمانہ میں ہوا ہے۔حضرت مسیح موعود پر قسم قسم کے حملے کئے گئے ، آپ کو طرح طرح کی تکلیفیں دی گئیں ، رنگا رنگ کی ایذائیں پہنچائی گئیں مگر باوجود مخالفوں کی شرارتوں کے اور باوجود دشمنوں کی ایذاء رسانیوں کے اور باوجود معاندوں کی تکلیفوں کے پھر بھی خدا نے آپ کا سلسلہ قائم کیا اور قائم کرتا رہے گا اس وقت تک کہ دنیا اقرار نہ کرے کہ خدا ہے اور ایسا خدا ہے جو کمزور سے کمزور انسان سے بھی کام لیتا ہے اور اس کے ذریعہ اپنا جلال اور قدرت دکھاتا ہے۔ظلمت سے بچانے پر خدا کا شکر پھریں اللہ تعال کا شکر تی اور تھی۔اس لئے کرتا ہوں کہ اس نے اپنے فضل سے ہمیں اس ظلمت اور تاریخی سے بچایا جس میں باقی دنیا مبتلا ہے۔کیا یہ خدا تعالیٰ کے فضلوں میں سے ایک