انوارالعلوم (جلد 5) — Page 384
ار العلوم جلد ۵ اسلام پر پروفیسر رام دیو کے اعتراضات کا جواب نمائندہ ہو یا غیر نمائندہ اس کی بات تھی قابل سماعت ہوگی جب کسی ایسے امر کے متعلق کے جو نظروں سے اوجھل ہو لیکن جو بات عقل کے ساتھ تعلق رکھتی ہے اور دلائل کے ساتھ ثابت کی جاتی ہے اس کے متعلق کہنا کہ فلاں شخص یوں کہتا ہے کسی قدر عجیب بات ہے۔ایسی باتیں جو معقولات میں سے ہیں اور جن کی صداقت یا بطلان دلائل عقلیہ سے ثابت کیا جاتا ہے نہ کہ روایت سے ان کے متعلق تو دس کروڑ انسان بھی کہدیں کہ وہ غلط ہیں تو ان کے کہنے کا کچھ اثر انکی صداقت پر نہیں پڑ سکتا۔اگر کوئی شخص ان کو غلط ثابت کرنا چاہتا ہے تو اس کا ایک ہی فرض ہے کہ وہ دلائل و براہین کیسا تھ ان کو غلط ثابت کر دے۔ایسے امور میں دوسروں کے اقوال پر اپنی دلیل کا انحصار رکھنا بالکل ایسا ہی ہے جیسے کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کے بیوہ ہو جانے پر اس لئے یقین کر لیا تھا کہ قاضی کی مہر لگا ہوا خطہ اس کے پاس پہنچا تھا کہ اس کی بیوی بیوہ ہوگئی ہے۔جب وہ مسائل جن پر اعتراض کیا گیا ہے عقلی ہیں تو ان کے غلط ثابت کرنے کا یہ طریق ہے کہ دلائل کے ساتھ ان کو غلط ثابت کیا جائے نہ کہ زید و بکر کے قول سے ان کے خلاف حجت پکڑی جائے ، صداقت ساری دنیا کے انکار سے صداقت ہی رہے گی اور جھوٹ ساری دنیا کی تصدیق سے بھی جھوٹ ہی رہے گا رہیں کسی بات کے جھوٹا ثابت کرنے کا ایک ہی حقیقی ذریعہ ہے کہ دلائل سے اس کے جھوٹا ہونے کو ثابت کر دیا جائے۔پروفیسر صاحب کے پیش کردہ حوالے تیسرا جواب پروفیسر رام دیو صاحب کے مضمون کا یہ ہے کہ انہوں نے چار مسلمانوں کے اقوال پیش کئے ہیں۔سیدامیر علی صاحب ، خدا بخش صاحب ، یوسف علی صاحب اور مسٹر مظہر الحق صاحب یوسف علی صاحب تو کوئی ایسے غیر معروف آدمی ہیں اور ان کا فقرہ ایسا عمل ہے کہ اس سے تو کوئی نتیجہ ہی نہیں نکلتا۔مسٹر منظر الحق صاحب نے گوشت کو غیر قدرتی غذا کیا ہے اور یہ خود ایک مہم فقرہ ہے کیونکہ انسان کی کوئی خاص غذا نہیں ہے اور نہیں کہہ سکتے کہ انہوں نے کن معنوں میں یہ فقرہ استعمال کیا تھا اور اگر ان کے فقرہ کے سخت سے سخت معنے بھی کر لئے جاویں تو بھی ایک طبی مسلہ سے زیادہ اس کو وقعت نہیں دی جاسکتی اور اس کے یہی معنے لئے جاسکتے ہیں کہ گوشت کوئی اعلیٰ درجہ کی غذا نہیں اور اس سے اسلام کے زمانہ حال کے لئے نا کافی ہونے کا ہرگزہ ثبوت نہیں نکلتا۔اب دو شخص باقی رہ جاتے ہیں ایک سید امیر علی صاحب اور دوسرے مسٹر خدابخش صاحب میٹر خدا بخش صاحب کی جس کتاب میں قرآن کریم کو رسول کریم صل اللہ علیہ وسلم کی ڈائری قرار دیا گیا ہے۔اس