انوارالعلوم (جلد 5) — Page 385
عدد ۵ ۳۸۵ اسلام پر پروفیسر رام دیو کے اعتراضات کا جواب کا حوالہ چونکہ پروفیسر رام دیو صاحب نے نہیں دیا۔اس لئے میں اس کے متعلق کچھ نہیں لکھ سکتا۔ہاں سید امیر صاحب کی کتاب سپرٹ آف اسلام کے جن تین حوالوں کو انہوں نے پیش کیا ہے ان کے متعلق میں کہ سکتا ہوں کہ وہ درست نہیں ہیں۔رسول کریم کے متعلق سیدامیر علی صاحب ایک حوالہ جو سپرٹ آف اسلام سے پروفیسر رام دیو صاحب نے دیا ہے یہ ہے کہ ستید نے نہیں لکھا کہ آپ نے بتوں کو مان لیا امیر علی صاحب نے لکھا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کفار مکہ نے کہا کہ وہ ان کے تین میتوں کو مان لیں تو وہ بھی ان کے خدا کو مان لینگے تو آپ نے کچھ دن کے لئے بہتوں کو مان لیا۔مجھے نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ سید امیر علی صاحب پر یہ اتمام ہے ان پر اور بہزار الزام لگ سکتے ہوں مگر یہ الزام ان پرنہیں لگ سکتا۔انہوں نے ہرگز اپنی کتاب میں یہ نہیں لکھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار کے کہنے پر بتوں کو مان لیا تھا بلکہ اس مضمون پرانہوں نے اپنی طرف سے کچھ لکھا ہی نہیں۔یہ واقعہ جس کی طرف پروفیسر رام دیو صاحب نے اشارہ کیا ہے سپرٹ آف اسلام کے پہلے باب میں مندرج ہے۔سید امیر علی صاحب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے حالات بیان کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ :۔اس دوران میں ایک ایسا واقعہ پیش آیا جسے پیغمبر صاحب کے میسی سوانح نویس اور مسلمان مؤرخ مختلف پیرایوں میں بیان کرتے ہیں " اس کے آگے انھوں نے پہلے تو اسلامی مؤرخین کی روایت نقل کی ہے اور بعد میں مسیحی مؤرخوں کا وہ بیان نقل کیا ہے جس کی طرف پروفیسر رام دیو صاحب نے اشارہ کیا ہے اور جسے انہوں نے سید امیر علی صاحب کی طرف منسوب کیا ہے اپنی طرف سے سید صاحب نے کوئی رائے ظاہر نہیں کی۔چنانچہ سید صاحب لکھتے ہیں کہ دوستی مورخین کے نزدیک اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی کریم کے دل میں ایک قلیل عرصہ کے لئے یہ خواہش پیدا ہو گئی تھی کہ وہ قریش کے ساتھ جو جنگ ہو رہی تھی کسی سمجھوتہ کے ذریعہ خاتمہ کر دیں اور آگے انھوں نے سیمی مورخین کے دونوں گروہوں کے خیالات نقل کئے ہیں۔ان کے بھی جو متعصب ہیں اور ان کے بھی جو غیر متعصب ہیں جیسے لین پول وغیرہ۔پس مسیحی مورخین کے خیالات کو سید امیر علی صاحب کی طرف منسوب کرنا ایک ظلم عظیم ہے اور مجھے افسوس ہے کہ ایک قابل آدمی کی زبان سے اس قسم کی غلطی کی اشاعت ہو اور ایک ایسے مضمون کے بیان کرتے