انوارالعلوم (جلد 5) — Page 351
۳۵۱ اسلام پر پروفیسر رام دیو کے اعتراضات کا جواب کہ مسلمانوں کا کچھ حصہ یورپ کا آباد کا رہے جبکہ آریہ مذہب کے پیرو صرف کالی نسلوں تک محدود ہیں۔کسی ی سچائی کے پھیلنے میں اس کے ماننے والوں مجھے تعجب آتا ہے کہ پروفیسر صاحب سے نفرت کی وجہ سے نا کامی نہیں ہو سکتی نے ایسی بات زبان پر آنے ہی کیوں دی۔اگر ان کے دل میں اس قسم کا مضحکہ خیز خیال پیدا ہوا بھی تھا تو ان کو چاہئے تھا کہ اس کو دباتے نہ کہ برسرا اجلاس اس کا اظہار کرتے۔کیا کوئی شخص جو خدا پر ایمان رکھتا ہے یہ یقین کر سکتا ہے کہ کوئی سچا مذ ہب اس لئے کسی قوم میں پھیلنے میں ناکام رہے گا کہ اس کے ماننے والوں سے لوگ نفرت کرتے ہیں ؟ وہ کون سا مذہب ہے جس سے دوسرے مذاہب نے نفرت نہیں کی جس وقت اسلام عرب کے لوگوں کے سامنے پیش کیا گیا ہے اس وقت ان لوگوں کو گیا مسلمانوں سے اس سے کم نفرت تھی جو اس وقت یورپ کے لوگوں کو مسلمانوں سے ہے۔عرب اس سے بدتر سلوک مسلمانوں سے کرتے تھے جو اس زمانہ میں اہلِ یورپ مسلمانوں سے کرتے ہیں اسی طرح جب اسلام ہندوستان میں آیا ہے تو کیا مسلمان یہاں کے اصل باشندوں کے محبوب تھے ؟ وہ ان سے سخت نفرت کرتے تھے مگر اسلام کی خوبیوں نے ان کے دلوں پر فتح پاہی لی اور کروڑوں آدمی اسلام کے حلقہ بگوش ہوگئے اسی طرح یورپ بھی جب اسلام کی خوبیوں پر آگاہ ہو گا تو اس کی نفرت خود بخود جاتی رہے گی۔ہر ایک کام اپنے وقت پر ہوتا ہے سینکڑوں سال کی عداوت اور بعض ایک دن میں نہیں جاتا وہ خیالات جو بطور ورثہ کے کسی قوم کو ملتے ہیں ان کا بکلی دُور کرنا کافی وقت چاہتا ہے " قومیں کبھی یکدم کسی نئی بات کو قبول نہیں کر لیا کرتیں۔مذہب کا فائدہ تو روحانی فائدہ ہے اور بوجہ لطیف ہونے کے تیز نظر آدمی کو ہی نظر آسکتا ہے۔وہ عام فائدہ کی باتیں جن میں انسان کے جسمانی فوائد مرکوزہ ہوتے ہیں ان کی اشاعت بھی مشکل سے ہوتی ہے۔چیچک کے ٹیکے سے اتارے ملک کو کس قدر فائدہ ہوا ہے ہزاروں آدمی ہر سال اندھے ہو جاتے تھے جو اس ٹیکہ کے سبب سے اس صدمہ سے محفوظ ہو گئے ہیں لیکن باوجود اس کے اس قدر مفید ہونے کے لوگ شروع شروع میں اس کی سخت مخالفت کرتے تھے اور بچوں کو چھپا دیتے تھے۔میں تمہیں سال کے تجربہ اور تربیت کے بعد جاکر لوگ اس کے فائدہ کے قائل ہوئے ہیں۔ریل اور تارکیسی مفید ایجادات ہیں لیکن عرب لوگ اب تک ریل کے فوائد کے قائل نہیں ہو سکے بار بار ترکوں نے ریل بنائی اور انہوں نے توڑ دی۔جاپان کسی قدر ترقی یافتہ ملک ہے لیکن اس کے سٹومہ قبیلہ نے جس کا جاپان کی موجودہ