انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 350 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 350

انوار العلوم جا ۳۵۰ اسلام پر پروفیسر رام دیو کے اعتراضات کا جواب اصلی اللہ علیہ وسلم ) کی ڈائری تھی جس میں وہ اپنے خیالات لکھ لیا کرتے تھے۔سید امیر علی صاحب اپنی کتاب سپرٹ آف اسلام میں لکھتے ہیں کہ قرآن کریم میں جو فرشتوں کا ذکر ہے وہ محمد صاحب اضلی اللہ علیہ وسلم ) کا وہم اور شاعرانہ نازک خیالی تھی۔پھر وہ لکھتے ہیں کہ محمد صاحب (صلی اللہ علیہ وسلم نے غلطی کی کہ چند دنوں کے لئے مشرکوں کے کہنے پر بہتوں کو مان لیا۔اسی طرح سید امیر علی پردہ سسٹم کے خلاف ہیں اور کثرت ازدواج کے مسئلہ کو زنا کاری خیال کرتے ہیں۔صوفی فرقہ کے لوگ ہندوؤں کی طرح لفظ رام رام کی بجائے اللہ اللہ کر کے ذکر کرتے ہیں۔مظہر الحق صاحب بیرسٹر نے گوشت کو انسانوں کے لئے قدرتی خوراک نہیں بتایا۔ایک اور لیڈر مسٹر یوسف علی ایم اے نے دہلی میں مسلمانوں کو کہا کہ اگر پاکیزگی چاہتے ہو تو را مائن پڑھو۔پس اسلام بھی زمانہ ماضی کا مذہب ہے اور نئے تعلیم یافتہ لوگوں کو نسلی نہیں دے سکتا۔پروفیسر صاحب کے دلائل کی حقیقت یہ دو دلائل ہیں جو پروفیسر صاحب نے اسلام کے خلاف دیئے ہیں اور وہ خوش ہیں کہ ان دلائل کے ذریعہ انہوں نے اسلام کو مذہبی میدان جنگ میں سے بیکار کر کے واپس کر دیا ہے مگر میرے نزدیک ان سے زیادہ پودے اور ان سے زیادہ کمزور اور کوئی دلائل نہیں ہو سکتے اور اگر بند سے ماتزم کے ایڈیٹر صاحب نے کسی مخفی بغض کی وجہ سے جو ان کو پروفیسر صاحب سے ہو ان کی طرف وہ بات منسوب نہیں کر دی جو انہوں نے نہیں کہی اور ان دلائل کو نظرانداز نہیں کر دیا جو پروفیسر صاحب نے اپنے دعوی کی تائید میں اس وقت دیئے ہوں تو یقیناً ہر ایک عقلمند کے لئے بہ بات نہایت تعجب خیز اور حیرت انگیز ہے کہ ایک پروفیسر نے اس قسم کے دلائل ایک تعلیم یافتہ جماعت کے سامنے بیان کئے۔رنگت کے متعلق اعتراض پہلی دلیل جو پروفیسر صاحب نے دی ہے وہ مسلمانوں کی رنگت کے متعلق ہے۔پروفیسر صاحب کے نزدیک مسلمان تعلیم یافتہ یورپ کا علاج نہیں کر سکتے کیونکہ وہ سفید رنگ کے نہیں۔یہ دلیل یوسی نہایت بیہودہ ہے لیکن اس شخص کے منہ پر جو خود کالی کہلانے والی قوم میں سے ہے اور اپنے مذہب کے بالآخر غالب آ جانے کی خبر دینے کے لئے کھڑا ہوا ہے اور بھی زیادہ قابل مضحکہ معلوم ہوتی ہے۔اگر مسلمان بوجہ سفید رنگ نہ رکھنے کے یورپ کی مشکلات کو حل نہیں کر سکتے تو آریہ صاحبان ان سے بھی زیادہ سیاہ رنگ رکھتے ہوئے یورپ کی مشکلات کو کیونکر حل کر سکتے ہیں۔پروفیسر صاحب کو یہ بھی خیال نہ آیا