انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 341 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 341

انوار العلوم جلد ۵ ۳۴۱ اسلام اور حریت و مساوات FA مساوات نہ رہی۔ خواجہ صاحب اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ الرِّجَالُ قَوْمُونَ عَلَى النِّسَاءِ 16 (النساء : ۳۵) میں رجال سے مراد فرقہ ذکور اور نساء سے مراد فرقہ نساء ہے ۔ اور اِن خِفْتُمْ شِقَاقَ بينهما النساء : ۳۶) میں ضمیر جمع مخاطب اسی جمہور کی طرف راجع ہے اور بَيْنِهِما" میں میاں بیوی کی طرف یعنی سزا دینا پنچایت کے اختیار میں ہے ۔ اول تو یہ معنے ہی باطل ہیں ۔ کیونکہ اِن خِفْتُمْ والی آیت بعد کی ہے اور وَالَّتِی تَخَافُونَ نُشُوزَهُنَّ (النساء : ۳۵) والی آیت پہلے کی ہے ۔ اور دوسرے کوئی شریف آدمی اس امر کو برداشت نہیں کر سکتا کہ پنچایت بیٹھ کر اس کے متعلق یہ فیصلہ کرے کہ وہ اس قدر عرصہ تک اپنی بیوی سے ہم صحبت نہ ہو۔ یہ امر تو خاوند کے اختیار میں ہے اور اس کو شریعت نے اختیار دیا ہے لیکن اگر یہ منے بھی تسلیم کر لئے جاویں تب بھی سوال وہی رہتا ہے کہ عورت کے نشوز پر تو پنچایت کو مارنے کا حکم دیا ہے لیکن مرد کو مارنے کا حکم پنچایت کو بھی نہیں دیا۔ پس پھر بھی مساوات نہ رہی۔ ایک سے زیادہ بیویاں کرنے کے متعلق خواجہ صاحب تعداد ازدواج اور خواجہ صاحب لکھتے ہیں کہ مرد کو اس کی حسب پسند ایک سے زیادہ نکاح جائز نہیں۔ مگر فَانكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِّنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَتُلْثَ وَرُبَعَ (النساء :۴) کی موجودگی میں یہ دعوی ایک دعوی بلا دلیل سے زیادہ وقعت نہیں رکھتا۔ خواجہ صاحب حدیث کا انکار کر دیں مگرہ تاریخ کا انکار تو نہیں کر سکتے (آج کل کے آزاد خیالوں نے یہ عجیب طریقہ اختیار کیا ہے کہ حدیث کا تو انکار کر دیتے ہیں جو تاریخ سے زیادہ پختہ دلائل سے ثابت ہے۔ مگر تاریخ کو قبول کر لیتے ہی کے ہیں جس کی بناء حدیث کی صحت کے دلائل کی نسبت نہایت کمزور دلائل پر ہے، تاریخ سے معلوم اہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، حضرت ابو بکر ، حضرت عمر، حضرت عثمان ، حضرت علی رضوان اللہ علیہم کی ایک سے زیادہ بیویاں تھیں ۔ کیا عقل اس امر کو تسلیم کر سکتی ہے کہ آنحضرت علیہم ک سے زیادہ تھیں کیا اس ام کو تسلیم کرسکتی۔ صلی اللہ علیہ وسلم اور دوسرے بزرگوں کو ایسی مجبوریاں پیش آگئی تھیں کہ جن کی موجودگی میں ایک سے زیادہ نکاح کے بغیر چارہ نہ تھا۔ ہوتا عورت کا نفلی روزہ میں نے لکھا تھا کہ عورت کو نفلی روزہ رکھنا بلا خاوند کی اجازت کے جائز نہیں۔ اس پر خواجہ صاحب لکھتے ہیں کہ کیا خاوند کو جائز ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ خواجہ صاحب کو علمی مباحث میں پڑنے سے پہلے شریعت کے موٹے موٹے مسائل کی واقفیت ضرور حاصل کر لینی چاہئے ان کو یاد رہے کہ شریعت اسلام نے اگر روزہ کے متعلق کچھ قواعد