انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 342 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 342

انوار العلوم جلد ۵ ۳۴۲ اسلام اور حریت و مساوات بنائے ہیں تو مرد کے لئے بھی نفلی روزہ کی قید رکھی ہے مگر اس میں عورت سے اجازت لینے کی شرط نہیں رکھی۔عورت کے لئے یہ شرط مقرر کی ہے کہ وہ خاوند سے اجازت ہے اور میرا منشاء اس حکم کے پیش کرنے سے صرف یہ ہے کہ من گل الوجوہ مساوات کا مسئلہ شریعت کے خلاف ہے۔مساوات بعض دفعه نهایت خطرناک ہوتی ہے اور بجائے اس سے فائدہ پہنچنے کے نقصان پہنچ جاتا ہے اور اس کی خوبیاں نسبتی خوبیاں ہیں اور اس کی شکلیں بھی ہزاروں ہیں۔بعض دفعہ جو چیز مساوات نظر آتی ہے وہ عدم مساوات ہوتی ہے۔عورت کے لئے نکاح کے وقت ولی کی ضرورت میں نے یہ بھی لکھا تھا کہ عورت کو نکاح کے لئے کسی ولی کی وساطت کی ضرورت رکھی گئی ہے لیکن مرد کے لئے ایسی کوئی شرط نہیں رکھی گئی۔خواجہ صاحب لکھتے ہیں کہ اگر ایسا کیا گیا ہے تو اسی کے فائدہ کے لئے ہے کیونکہ مرد کے عیوب سے عورت واقف نہیں ہوتی۔اس لئے کسی مرد کی ولایت میں نکاح کرنے کا اسے حکم دیا گیا تا مردوں کے ذریعہ ایسے مرد کے عیب و صواب کا علم ہو جائے۔مگر خواجہ صاحب نے یہ نہ سوچا کہ سوال تو مساوات کا تھا فائدہ یا عدم فائدہ کا سوال نہ تھا۔اگر فائدہ کا سوال درمیان میں آجائے تو پھر تو اس بحث کا کچھ فائدہ ہی نہیں۔کیونکہ اصل سائل کو انگریزوں کے طریق عمل پر اعتراض تھا۔اور اگر یہ اصل تسلیم کر لیا جائے کہ جس میں کسی کا فائدہ نظر آئے اس سے اسی رنگ میں معاملہ کیا جائے خواہ مساوات نہ رہے تو پھر تو بات ہی حل ہو جاتی ہے۔انگریز بھی یہی کہتے ہیں کہ یہ عدم مساوات صرف ہندوستانیوں کے فائدہ کے لئے ہے۔اور یورپ جس قدر ممالک پر قبضہ کر رہا ہے صرف اسی عذر پر کر رہا ہے کہ ان لوگوں کا ہمارے ماتحت رہنا ان کے لئے نہایت مفید ہے۔پھر یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ اگر عورت کو مرد کی ولایت سے نکاح کا تصفیہ کرنے کا اس لئے حکم دیا گیا ہے کہ عورت مرد کے عیب سے واقف نہیں ہوتی تو پھر اس صورت میں تو مرد کو بھی حکم ہونا چاہئے تھا کہ وہ کسی عورت کی ولایت سے نکاح کرے۔کیونکہ جس طرح عورت کو مرد کے عیب و صواب کا علم نہیں ہوتا مرد کو بھی عورت کے عیب و صواب کا علم نہیں ہوتا۔جو وجہ خواجہ صاحب بتاتے ہیں وہ تو دونوں میں پائی جاتی ہے پھر کیوں حکم میں برابری نہیں رکھی گئی۔مغربی ممالک میں اسلام کی اشاعت خواجہ صاحب یہ بھی اعتراض کرتے ہیں کہ جس صورت میں میں نے اسلام کو پیش کیا ہے اس سے