انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 335 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 335

انوار العلوم جلد ۵ ۳۳۵ اسلام اور حریت و مساوات صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ خدا تعالیٰ نے اس وعدہ کو پورا کیا اور جبکہ آپ پر ایمان لانے کا درواز ب دنیا کے لئے کھلا چھوڑا تو دونوں آیتوں کا مفہوم ایک وقت میں پورا ہو گیا۔فیض نبوت ہمیشہ کے لئے ال ابراہیم کے ساتھ بھی مخصوص ہو گیا اور سب اقوام میں نبی بھی آگئے۔کیا بلحاظ اس کے کہ آپ کی بعثت سے پہلے سب عالم میں نبی آچکے تھے اور کیا بلحاظ اس کے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی انت صرف عرب نہ قرار دینے گئے۔بلکہ سب جہان کے انسان آپ کی امت قرار دیئے گئے یہی معنی ہیں جن سے دونوں آیتوں کے معنوں میں تطابق رہتا ہے۔اور یہی وجہ ہے کہ میں نے اپنے مضمون میں لکھا تھا کہ ابراہیم علیہ اسلام کے ساتھ اس فیضان کو یہ خصوصیت حاصل ہے کہ کوئی شخص حضرت ابرا ہیم کی اولاد میں سے مہر تاباں سے روشنی لئے بغیر بارگاہ الہی تک پہنچ ہی نہیں سکتا معلوم ہوتا ہے کہ خواجہ صاحب نے اعتراض کرتے وقت وہ معنے اپنے ذہن میں نہیں رکھے جو میں نے کئے تھے اور اپنے ذہنی معنوں کی بناء پر مجھ پر اعتراض کر دیا ہے۔پھر خواجہ صاحب لکھتے ہیں کہ ہم نے تو واضح طور پر لکھ دیا ہے کہ تقسیم دولت اور وحدت اصل الاصول وحدت ہے جو کثرت کو ایک مرکز پر لاتی ہے اس لئے تقسیم دولت اسی اصول کے ماتحت ہونی چاہئے۔خواجہ صاحب نہ معلوم توحید اور تقسیم ہمال کو ایک اصل کے نیچے کیونکر لاتے ہیں۔ان کا ایک دوسرے پر قیاس کرنا قیاس مع الفارق ہے۔خواجہ صاحب خود بھی اس امر کو تسلیم نہیں کرتے اور نہ اس پر عامل ہیں کہ گل دنیا کے اموال آپس میں برابر تقسیم ہو کر سب لوگ برا بر ہوں۔وحدت اور برابری تو ایک ایسا مشکل کام ہے کہ اس کا پورا کرنا ناممکن ہے۔وحدت اس وقت تک نہیں ہو سکتی جب تک کہ مکان و لباس ، کھانا، انتخاب مرد و عورت ، آب و ہوا ، اور کام سب میں برابری نہ ہو۔یہ تو کوئی برابری نہیں کہ زائدہ بچا ہوا بال دوسرے کو دے دیے۔جب برابری ہے تو ایک قسم کا لباس سب کا ہونا چاہیئے۔سوائے اسکے کہ ایک شخص خود ہی کسی خاص قسم کے لباس سے انکار کر دے۔پھر ایک قسم کا مکان اور ایک قسم کی جگہ پر ہونا چاہئے۔سوائے اس کے کہ خود کوئی شخص کسی ادنی جگہ کو قبول کرے۔پھر ایک قسم کا انتخاب ازواج ہونا چاہئے۔پھر ایک قسم کی آب و ہوا میں رہنے کا سب کو موقع ملنا چاہئے۔سوائے اس کے کہ کوئی شخص خود اپنے حق کو چھوڑ دے۔پھر ایک قسم کا کام ہونا چاہیے سوائے اس کے کہ کوئی شخص خود دوسرا کام پسند کرے مگر باوجود اس کے پوری برابری پھر بھی نہ ملے گئی کئی ایسے نقائص میں گئے جن کا دور کرنا اختیار سے باہر ہو گا۔لیکن کیا کوئی عقلمند اس قسم کی برابری کے امکان کا خیال بھی کر سکتا ہے۔بالشو کس نے