انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 326 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 326

انوار العلوم جلد ۵ ۳۲۶ اسلام اور حریت و مساوات ایسے صریح طور پر غلط ہیں کہ شاید بہت سے لوگ ان کو پڑھ کر فوراً یہ فیصلہ کر دیں کہ خواجہ صاحب نے جان بوجھ کر افتراء پردازی سے کام لیا ہے ۔ مگر چونکہ علم النفس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی دماغ بلا سوچے سمجھے بعض خاص حالات میں اس قسم کے افعال کا مرتکب ہو جاتا ہے اس لئے میں ان پر یہ الزام نہیں لگاتا ۔ میں یہی خیال کرتا ہوں کہ اپنی سیکی اور شرمندگی کو مٹانے کے لئے ان کے نفس میں جو جوش پیدا ہوا ہے اس کے اثر کے نیچے بلا سوچے سمجھے ان کی تحریر میں بعض ایسی باتیں آگئی ہیں جو بالبداہت واقعات کے خلاف ہیں اور جن سے غرض صرف یہ ہے کہ وہ ناظرین کو میرے خلاف بھڑکا دیں یا ان پر میرے مضمون کی کمزوری اور بے ہودگی ثابت کریں ۔ خواجہ صاحب نے مجھ پر جو بہتان باندھے ہیں ان خواجہ صاحب کا حق وکالت میں سے بعض صریح اور ہوئے بستانوں کا در کرانے موٹے کے بعد میں خواجہ صاحب کے مضمون پر ایک سرسری نظر ڈالتا ہوں۔ خواجہ صاحب بیان فرماتے ہیں کہ میں ان کی وکالت پر معترض ہوں حالانکہ اخبار میں مضمون چھپنے پر ہر ایک شخص کا حق ہے کہ اس کا جواب دے ۔ میں خواجہ صاحب کو پھر اپنی پہلی نصیحت کی طرف توجہ دلاؤں گا کہ وہ بلاغور سے مضمون پڑھنے کے یونہی نہ جواب دینے بیٹھ جایا کریں۔ میں نے کبھی بھی ان کے حق وکالت پر اعتراض نہیں کیا ۔ جو کچھ میں نے لکھا تھا یہ تھا کہ خواجہ صاحب کو چاہئے تھا کہ وہ سائل کو میرے مطالبہ کے مطابق حریت و مساوات کی تشریح کر لینے دیتے یا اگر انتظار نہ کر سکتے تھے تو خود حریت و مساوات کی تشریح کر کے اس کے متعلق میری رائے دریافت کرتے ۔ بلا اسکے کہ میری رائے دریافت کریں مجھ پر اعتراض کرنا جائز نہ تھا۔ پس ان کا یہ لکھنا کہ میں ان کے حق وکالت پر اعتراض کرتا ہوں درست نہیں ۔ ہماری باتیں نہ تو پوشیدہ ہیں نہ اپنے خیالات کو ہماری جماعت نے کبھی چھپایا ہے جو شخص جرح کو نہیں سن سکتا وہ ہرگز اس بات کا ستحق نہیں کہ کامیابی کا منہ دیکھے ہم تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے سب دنیا کا مقابلہ کرتے ہیں اور اپنے متاع کو تمام دنیا کے بصروں کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ لیکن ہماری طرف سے اعتراض کی اجازت کے یعنی نہیں ہیں کہ بلا سوچے اور سمجھے ہر شخص اعتراض کر سکتا ہے۔ اپنے وقار کے قائم رکھنے کے لئے دوسروں کا بھی فرض ہے کہ وہ سوچ لیں کہ وہ کس بات پر اعتراض کرتے ہیں اور یہ بھی دیکھ لیں کہ جس بات پر وہ اعتراض کرتے ہیں کیا وہ ہم نے کی بھی ہے یا نہیں ؟