انوارالعلوم (جلد 5) — Page 324
انوار العلوم جلد ۵ ۳۲۴ اسلام اور حریت و مساوات نازل ہونے پر یہ کم منسوخ ہوگیا۔ان لوگوں کے نزدیک گویا یہ آیت منسوخ ہو چکی ہے۔پھر آگے لکھا ہے۔ان تمام معانی سے جو مفسرین نے کئے ہیں۔آپ کے معنوں کی تصدیق نہیں ہوئی جس جماعت نے اس آیت کے یہ معنی کئے بھی ہیں کہ جو ضرورت سے زائد بچے اسے خرچ کر دو۔اس نے بھی یا تو اسے جہاد پر چسپاں کیا ہے یا منسوخ قرار دیا ہے؟ ان عبارات سے صاف ظاہر ہے کہ میں نے آیت انفاق کو منسوخ نہیں قرار دیا بلکہ دوسروں کے اقوال نقل کئے ہیں۔اور ایسے الفاظ ساتھ لگا کر جیسے گویا اور ان لوگوں کے نزدیک ان سے مختلف الخیال ہونے کا بھی اظہار کر دیا ہے۔اور خود میرا اس آیت کے معنوں سے انکار کرنا جن سے اس آیت کو منسوخ قرار دینا پڑتا ہے اس امر کا ثبوت تھا کہ میں نسخ کا قائل نہیں۔مگر باوجود اس کے خواجہ صاحب مفہوم عبارت کے بالکل بر خلاف میرے خلاف یہ بات کسی پوشیدہ مجلس میں نہیں بلکہ ایک اخبار کے کالموں میں بیان کرتے ہیں کہ میں آیت انفاق کے نسخ کا قائل ہوں۔اور پھر یہ الزام لگا کر نسخ کے عقیدہ کے خلاف دلائل دینے شروع کر دیتے ہیں گویا اپنی طرف سے اسلام پر سے ایک زبر دست الزام کو دور کرتے ہیں۔غرباء میں تقسیم مال کے متعلق جھوٹا الزام چو تھا اتمام خواجہ صاحب نے مجھ پر ہی گیا کہ گویا میرے نزدیک جو مال اعلیٰ سے اعلیٰ کھانوں اور کپڑوں اور دوسرے اسباب تعیش سے بچے صرف وہی غرباء کو دیا جا سکتا ہے۔اور اس پر حاشیہ چڑھاتے ہیں کہ پھر کیا خاک بچے گا۔اور بطور تمسخر ساتھ یہ بھی زائد کرتے ہیں کہ میں نے اس طرح حلوة الدنيا وزينتها کا پورا نقشہ کھینچ دیا ہے۔اور ان کے نزدیک یہ تصویر اور بھی مکمل ہو جاتی اگر اس کے ساتھ حسین عورتوں کی کثرت کا بھی ذکر کر دیا جاتا۔یہ بھی ایک بستان ہے جو خواجہ صاحب نے مجھ پر باندھا ہے۔میں نے ہر گز کسی جگہ بھی اپنے مضمون میں یہ نہیں لکھا کہ عمدہ سے عمدہ کھانوں اور قیمتی کپڑوں کے بعد جو کچھ بچے وہ غرباء کو دیا جائے۔بلکہ میں نے اس کے بالکل بر خلاف لکھا ہے جسے بگاڑ کر انہوں نے یہ رنگ دے دیا ہے۔میں پہلے ان کی عبارت اور پھر اپنی عبارت لکھتا ہوں جس سے ہر ایک شخص آسانی سے سمجھ سکے گا کہ خواجہ صاحب نے کس قدر دیدہ دلیری سے کام لیا ہے۔خواجہ صاب لکھتے ہیں : ایک اور خیال نے میاں صاحب ممدوح کے دل میں چنگی لی (خواجہ صاحب کی عبارت پر تعجیب نہیں کرنا چاہئے۔جو شخص میں رنگ میں پرورش پاتا ہے۔اسی قسم کی باتیں اس کی زبان و قلم پر جاری ہوتی ہیں ، کہ اگر اعلیٰ سے اعلیٰ کھانوں اور عمدہ سے عمدہ کپڑوں اور وسیع اور گلے اور آراستہ و پیراستہ مکانوں