انوارالعلوم (جلد 5) — Page 311
انوار العلوم جلد ۵ ۳۱۱ اسلام اور حریت و مساوات إنَّكَ أَن تَذَرَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَا ، خَيْرٌ مِنْ اَنْ تَذَرَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ ربخاری کتاب الجنائز باب رثاء النبي صلى الله عليه وسلم سعد بن خولة ) یعنی اگر تو اپنے ورثاء کو دولتمند چھوڑ جائے تو یہ اچھا ہے بہ نسبت اس کے کہ ان کو غریب چھوڑ جائے کہ لوگوں کے آگے سوال کے لئے ہاتھ پھیلاتے پھریں۔اسی طرح حدیث میں آتا ہے کہ سعد بن ابی وقاص نے رسول کریم سے دو ثلث مال کے تقسیم کر دینے کی اجازت چاہی۔مگر آپ نے اس سے منع فرمایا۔پھر انہوں نے آدھا مال تقسیم کر دینا چاہا تو اس سے بھی منع فرمایا۔پھر انہوں نے میرے حصہ کے تقسیم کر دینے کی اجازت چاہی تو اس حصہ کی آپ نے اجازت دے دی۔مگر ساتھ ہی فرمایا - الثلتُ وَالثَّتُ كثير بخاری کتاب كَثِيرا الجنائز باب رثاء النبي صلى الله عليه وسلم سعد بن خولة ) یعنی تیسرے حصہ کی وصیت کر دو گو مکت بھی بہت ہے۔غرض یہ خیال کہ اسلام کا یہ حکم ہے کہ جو مال ضرورت سے زائد بچے اسے تقسیم کر دینا چاہئے۔بالکل خلاف اسلام اور خلاف عمل صحابہ ہے کہ جن میں سے بعض کی وفات پر لاکھوں کروڑوں روپیہ ان کے ورثاء میں تقسیم کیا گیا تھا۔اور اگر یہی حکم تھا تو پھر زکوۃ کا حکم دینے کی کوئی ضرورت نہ تھی۔جب سب مال جو ضرورت سے زائد ہو تقسیم کر دینے کا حکم ہے تو پھر زکوۃ کے مقرر کرنے کی کیا ضرورت تھی۔اور ضرورت سے بیچے ہونے کی اصطلاح ضرورت سے زائد مال کی اصطلاح مسم ہے خود ہم ہے بعض لوگ جو کچھ ان کو مل جائے گولا کھوں روپیہ کیوں نہ ہو اس کو خرچ کر دیتے ہیں اور ضرورت سے زائد ان کے نقطہ خیال میں کوئی مال ہوتا ہی نہیں۔بعض لوگ اپنا سب مال تجارت وغیرہ میں لگائے رکھتے ہیں۔ان کے پاس بھی ضرورت سے زیادہ نہیں بچ سکتا۔عقلاً بھی یہ خیال بالکل باطل ہے کیونکہ جب تک ایک جماعت ایسے لوگوں کی نہ ہو جو مالدار ہوں عام ملکی بہبودی ہو ہی نہیں سکتی اور غرباء کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض روحانی لوگ اپنے اموال کو حتی الوسع غرباء کی خدمت میں خرچ کرتے ہیں اور اسے اسلام نے منع نہیں کیا بلکہ پسند کیا ہے۔مگر یہ بات غلط ہے کہ اسلام نے اس امر کا حکم دیا ہے کہ دنیا میں مالی مساوات قائم کی جاوے اور ضرورت سے زیادہ مال لوگ ضرور ہی خرچ کر دیں۔اگر یہ اصل تسلیم کیا جائے تو یہ اصل بھی مقرر کرنا پڑے گا کہ ضرورت سے مراد عام حالت مکی کے مطابق اخراجات