انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 310 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 310

اسلام اور تربیت و مساوات در پیش ہو تو اپنی ضروریات سے زائد مال تمام کا تمام جہاد کے لئے دے دو۔اور ان معنوں سے مساوات ثابت نہیں ہوتی کیونکہ یہ مال غرباء میں تقسیم نہ کیا جائے گا بلکہ دشمن کے مقابلہ میں خرچ ہو گا۔دوسرے معنی اس کے یہ کئے جاتے ہیں کہ یہ جہاد کا ذکر نہیں بلکہ صدقات کا ذکر ہے۔جو لوگ صدقات کا ذکر بتاتے ہیں وہ بھی اس آیت کے کئی معنی کرتے ہیں بعض تو کہتے ہیں کہ عضو کے معنی ضروریات سے زائد بچے ہوئے مال کے ہیں۔شروع اسلام میں سال بھر کے نفقہ سے جو بیچ رہے اس کے فی سبیل اللہ خرچ کرنے کا حکم تھا۔مگر آیت زکوۃ کے نازل ہونے پر یہ حکم موقوف ہو گیا۔ان لوگوں کے نزدیک گویا یہ آیت منسوخ ہو چکی ہے۔دوسرے لوگ یہ کہتے ہیں کہ نہیں یہ زکوۃ کے متعلق حکم ہے اور مجملاً بیان ہوا ہے۔اس کی تفصیل دوسری جگہوں سے معلوم ہوتی ہے۔ایک اور جماعت عفو کے معنی اس مال کے کرتی ہے جس کا خرچ کرنا بوجھ نہ معلوم ہو اور جس کے خرچ کرنے سے جائداد تباہ نہ ہو جائے۔بعضوں نے کہا ہے کہ اس کے معنی درمیانی خرج کے ہیں یعنی نہ بالکل کم خرچ کرو نہ حد سے زیادہ خرچ کرو۔اور بعضوں نے کہا ہے کہ عفو کے معنی بہتر اور پاک مال کے ہیں۔اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اچھے اور پاک مال میں سے خرچ کرو یہ نہ خیال کرو کہ پرانی اشیاء یا دوسروں کے مال اُٹھا کر دے دو تو تم صدقہ کے حکم کے بجالانے والے ہو جاؤ گے۔بعضوں نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ صدقہ اور خیرات خوب دل کھول کر کرو۔ضرورت سے زائد مال تقسیم کر ان تمام معانی سے جو مفسرین نے کئے ہیں۔آپ کے دینے کا اسلام نے حکم نہیں دیا معنوں کی تصدیق نہیں ہوتی۔جس جماعت نے اس آیت کے یہ معنی کئے بھی ہیں کہ جو ضرورت سے زائد بچے اسے خرچ کر دو۔اس نے بھی یا تو اسے جہاد پر چسپاں کیا ہے یا منسوخ قرار دیا ہے اور وہ اس بات پر مجبور بھی تھے۔کیونکہ وہ صحابہ رضوان اللہ علیم کے عمل کو اور امت اسلامیہ کے طریق کو اس کے خلاف دیکھتے تھے۔احادیث نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بھی اسی بات کی تائید فرماتی ہیں کہ اپنے اخراجات نکال کر باقی مال تقسیم کر دینا اسلامی حکم نہیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ : يَجِلُ اَحَدُكُمْ بِمَالِهِ يَتَصَدَّقُ بِهِ وَيَقْعُدُ يَتَكَفَّفُ النَّاسُ إِنَّمَا الصَّدَقَةُ على ظهر عنى ددار می كتاب الزكوة باب النهي عن الصدقة بجميع ما عند الرجل) تم میں سے بعض اپنا سارا مال صدقہ کے لئے لے آتے ہیں اور پھر لوگوں کے آگے سوال کے لئے ہاتھ بڑھاتے ہیں۔صدقہ زائد مال سے ہوتا ہے۔اسی طرح فرماتے ہیں کہ