انوارالعلوم (جلد 5) — Page 304
انوار العلوم جلد ۵ ۳۰۴ اسلام اور حریت و مساوات اپنے اموال کا مالک مقرر کیا ہے۔دونوں کو یکساں اپنی جان کے متعلق اختیار دیئے ہیں پس یہ کہنا کہ ہر رنگ میں مرد و عورت میں مساوات ہے۔غلط ہے۔بعض لحاظ سے مساوات ہے اور بعض لحاظ سے نہیں۔اور مساوات کو وہیں مٹایا گیا ہے کہ جہاں مساوات کا مٹانا کام کے بخوبی چلانے اور امن کے قیام کے لئے ضروری تھا۔اور ایسے موقع پر مرد کو عورت کے حقوق کا پوری طرح خیال رکھنے کی تاکید کی گئی ہے۔مگر حکم مرد ہی کے سپرد کیا گیا ہے۔شاید اس جگہ یہ کہا جائے کہ ہماری بھی حریت و مساوات سے یہی مراد تھی۔مگر میں کہوں گا کہ میں نے بھی تو مراد دریافت کرنے کے لئے ہی سوال کیا تھا۔پہلے مراد بیان کرنی تھی اور پھر میرا خیال معلوم کر کے مضمون لکھنے بیٹھنا تھا۔کیا وراثت میں مرد و عورت کے مساوی حقوق ہیں خواجہ صاحب نے عورتوں کے حقوق کے متعلق ایک عجیب نکتہ لکھا ہے اور وہ یہ کہ عورت اور مرد کے حقوق وراثت میں بھی مساوی ہیں۔کیونکہ اگر عورت اپنے بات مال میں سے آدھا حصہ لیتی ہے تو اپنے خاوند کی بھی وارث ہوتی ہے۔معلوم ہوتا ہے وہ کلید دیکھ که آیات لکھنے کے عادی ہیں۔اور جس طرز سے انہوں نے اپنے مضمون میں آیات لکھی ہیں ان سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ قرآن کریم کے مطالب کے سمجھنے کی انہوں نے کبھی کوشش نہیں کی۔انہوں نے یہ خیال نہ کیا کہ اگر عورت اپنے خاوند کی وارث ہوتی ہے تو خاوند بھی اپنی عورت کا وارث ہوتا ہے اور وہ بھی اس طرح کہ جس قدر حصہ عورت کو خاوند کے ترکہ سے ملتا ہے اس سے دگنا مرد کو اپنی بیوی کے ترکہ سے ملتا ہے اور یہ ضروری نہیں کہ مرد عورت سے ہمیشہ پہلے ہی مرے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وَلَكُم نِصْفُ مَا تَرَكَ اَزْوَاجُكُمْ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُنَّ وَلَدٌ فَإِنْ كَانَ لَهُنَّ ولد تلكُمُ الرُّسُحُ مِمَّا تَرَكْنَ مِنْ بَعْدِ وَمِيّةٍ يُوصِينَ بِهَا أَوْدَيْنِ وَلَهُنَّ الربع مِمَّا تَرَكْتُمُ إِن لَّمْ يَكُن لَكُمْ وَلَهُ فَإِن كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوْصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنِ (النساء: ۱۳) :۔جو کچھ تمہاری بیویاں چھوڑ جائیں اس میں سے نصف تمہارا حصہ ہے اگر ان کی اولاد نہ ہو اور اگر ان کی اولاد ہو تو چوتھا حصہ تمہارا ہے۔وصیت کے حصہ یا قرض کے وضع کرنے کے بعد۔اسی طرح عورتوں کے لئے تمہارے مال میں سے چوتھا حصہ ہے اگر تمہارے اولاد نہ ہو۔اور آٹھواں اگر اولاد ہو۔یہ حصہ بھی تمہاری وصیت یا قرضہ کی ادائیگی کے بعد جومال