انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 305 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 305

۳۰۵ اسلام اور حریت و م بچے اس میں سے ہو گا۔خواجہ صاحب اس آیت کو دیکھیں اور سوچیں کہ ان کی دلیل وراثت کے مساوی ہونے کی کہاں گئی؟ اگر عورت خاوند کے مال کی وارث ہوتی ہے تو خاوند بھی عورت کے مال کا وارث ہوتا ہے اور یہاں بھی اس کا حصہ دگنا ہوتا ہے پس بہر حال مرد کا حصہ عورت کے حصہ سے دگنا رہے گا۔بلکہ دُگنے سے اس کا یہ ہے پس ہرحال کاحصہ عورت حصہ سے بھی بعض صورتوں میں بڑھ جائے گا۔ورثہ میں مرد و عورت کے حقوق مساوی نہ ہونے میں حکمت یہ فرق جو مرد اور عورت کے حصہ میں شریعت نے رکھا ہے اس کی وجہ اور ہے اور یہ عدم مساوات ظالمانہ طور پر نہیں بلکہ ثابت شدہ حقائق کے ماتحت ہے۔عورتوں اور مردوں میں مساوات ثابت کرنے کی کوشش کرنے کے بعد خواجہ صاحب نے اور کئی قسم کی مساوات احکام قرآنیہ سے ثابت کرنی چاہی ہیں اور بتایا ہے کہ اسلام نے مذہب میں مساوات قائم کی ہے کہ ارسب انسانوں کو اسلام کی دعوت دی ہے۔۲۔نسلی مساوات قائم کی ہے کہ عربی و مجھی اور بڑی اور چھوٹی ذاتوں کا فرق مٹا دیا ہے۔۳۔مال میں مساوات قائم کی ہے کہ کوئی شخص اپنے پاس ضرورت سے زیادہ مال نہیں رکھ سکتا۔ہر امر میں مساوات نہ ہونے کا اعتراف نہیں نہیں سمجھتا کہ ان دعاوی کے ثابت کرنے یا ثابت کرنے کی کوشش کرنے میں خواجہ صاحب کا کیا مقصد تھا۔جس خط پر انہوں نے یہ سلسلہ مضامین لکھنا شروع کیا ہے۔اس میں تو یہ سوال اُٹھایا گیا ہے کہ ہر ایک بات میں حریت و مساوات نہیں بعض جگہ حریت و مساوات بُری ہوتی ہے بعض جگہ جائز اور بعض جگہ ضروری پس ان امور میں اگر حریت و مساوات ثابت بھی ہو جائے تو اس کا فائدہ اور نفع ؟ اصل مضمون پر کیا روشنی پڑے گی با میرے خط کی تردید تو تب ہو سکتی تھی کہ حریت و مساوات ہر رنگ میں ضروری ہوں اور یہ آپ نے خود تسلیم کیا ہے کہ ہر امر میں حریت و مساوات کا اصل قائم نہیں رہ سکتا۔آپ لکھتے ہیں۔اس میں شک نہیں کہ حکومت کے باعث حکمران قوم کو ایک طرح کی فضیلت محکوم قوم پر حاصل ہوتی ہے لیکن اس فضیلت کا مفہوم ایسی عدم مساوات نہیں ہے جو غلامی کا مترادف ہے۔(وکیل ۴ دسمبر ۱۹۲۰ء) جب آپ خود تسلیم کرتے ہیں کہ ہر جگہ حریت و مساوات کا اصل نہیں چل سکتا تو پھر اس سلسلہ