انوارالعلوم (جلد 5) — Page 277
انوار العلوم ترک موالات اور احکام اسلام یقیناً پائیں گے اور ضرور پائیں گے مگر صرف اس بات کی ضرورت ہے کہ اپنی پہلی گندی نیتوں کو بدل کر تم میں سے ہر ایک خدا کا بندہ اور اسلام کا شیدائی اور اس کا مبلغ بن کر ان سے موالات کرے یہاں تک کہ وہ وقت آجاوے جب خدا تعالیٰ کا کلام پورا ہو اور وہ جو آج دشمن ہے کل اسی طرح تمہارا دوست اور اسلام کا دلدادہ ہو جس طرح کسی وقت تمہارے آباء کی موالات کے اثر سے بغداد کو تباہ کرنے والا اور عباسی خلافت کو مٹانے والا ترک اسلام کا دلدادہ ہو گیا تھا۔عیسائیت تمہارا شکار ہے جو تمہارے گھر میں آگیا ہے تم نہ ہی ہو کہ یہ لوگ غصہ میں ہماری غفلت - فائدہ اُٹھا کر ہمارے گھر میں گھس آئے ہیں لیکن مسلم تو شیر ہوتا ہے کیا شیر بھی افسوس کرتا ہے کہ اس کا شکار اس کی کچھار میں گھس آیا۔وہ اس کو حیلوں سے باہر نکالنا چاہتا ہے یا اس کو اپنا شکار بنانا چاہتا ہے ؟ جس طرح تمہارے آباء نے اس وقت جب ترک ان کی غفلت سے فائدہ اُٹھا کر عراق میں گھسی آئے تھے ان کو ترک موالات کا ہتھیار استعمال کر کے باہر نہیں نکالا بلکہ ان پر موالات کی کمند ڈال کر ہمیشہ کے لئے اپنا بنا لیا۔تم کیوں اسی طرح نہیں کرتے ؟ اگر تم سچے ہو تو ہر ایک شخص جو تمہارے راستہ میں آتا ہے تمہارا شکار ہے۔بے شک یہ افسوس کی بات ہے کہ تمہارے شکار کو یہ جرأت ہوئی کہ خود تمہارے راستہ میں آتا ہے مگر جب وہ آگیا تو اب اس کی آمد سے فائدہ اُٹھانا چاہئے اور آئندہ کے لئے اپنی غفلت کو ترک کرنا چاہئے۔ارض مقدسہ کا تمہارے ہاتھ سے تم چڑتے ہو کہ ارض مقدسہ تمہارے ہا تھوں سے نکل گئی مگر کیا تم قرآن کریم کو کھول کر نہیں نکلنا اور اس کے متعلق سابقہ نوشتے دیکھتے کہ ارض مقدسہ کا ملنا ترک موالات پر مقدر نہیں ہے بلکہ عبادت پر۔اور زبور کو نہیں کھولتے جس کا حوالہ خود قرآن کریم نے دیا ہے جہاں صاف لکھا ہے کہ ارض مقدسہ جب غیر قوموں کے ہاتھ میں ملی جاوے تو غصہ نہ ہو جو اور کڑاھی نہیں اور نہ جوش میں آجائیو تا ایسا نہ ہو اس جوش کی حالت میں تو کوئی بڑا کام کر بیٹھے بلکہ صبر سے اس وقت کا انتظار کیجیو۔جب خود اللہ تعالیٰ تیری مدد کو آوے گا۔میں اسی پیشگوئی کو مد نظر رکھو اور خدا تعالیٰ کے حضور میں گر کر اس کے سچے عبد ہونے کی کوشش کرو تا وہ تمہاری مصیبتوں کو دور کر دے اور ایسے نازک وقت میں قرآن کریم کی تعلیم کو بگاڑ کر خدا تعالیٰ کے غضب کو مت بھڑ کاؤ۔وہ جو امن پھیلانے کے لئے آیا تھا اور رحمت کا فرشتہ تھا اسے دشمنوں کی نظر میں ایک آتشی دیو ثابت نہ کرو۔بلکہ دوسروں