انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 261 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 261

انوار العلوم جلد ۵ ۲۶۱ ترک موالات اور احکام اسلام طاعة الامروان منحوا الحقوق ) یعنی اے نبی اللہ ! بتائیے تو سہی کہ اگر ہم پر ایسے حاکم مقرر ہوں جو اپنے حق تو لے لیں اور جو ہمارے حقوق ہیں وہ نہ دیں تو ہم کیسا کریں ؟ آپ نے پہلے تو اس کے سوال کا جواب نہ دیا لیکن جب اس نے دوبارہ دریافت کیا تو فرمایا کہ ان کی باتیں سنو اور ان کی اطاعت کرو کیونکہ وہ اپنے کئے کی جزاء پائیں گے تم اپنے کئے کی جزاء اپنے کئے کی جزاء پاؤ گے۔ ان احادیث میں کوئی لفظ ایسا نہیں کہ جس کا یہ مطلب ہو کہ صرف مسلمان حاکم کی اطاعت کرو اور دوسرے کی نہ کرو۔ کوئی شخص کسی کو مجبور نہیں کرتا کہ وہ کسی خاص ملک یا خاص بادشاہ کے ماتحت رہے لیکن اگر کوئی شخص خود ایک ملک کو چنتا ہے تو اس کا فرض ہے کہ پھر اس ملک کے آئین کی اطاعت کرے اور حکومت کے خلاف مقابلہ کے لئے کھڑا نہ ہو جائے۔ کیا ترک موالات مقابلہ نہیں ؟ شاند بعض لوگ کہ دیں کہ ترک موالات تو مقابلہ نہیں لیکن ان کو یاد رہے کہ ترک موالات کے حامی اس بات پر خاص طور پر زور دے رہے ہیں کہ یہ ہتھیار گورنمنٹ کو نقصان پہنچانے کے لئے ہے۔ پس ان کے اپنے اقوال کے مطابق یہ حملہ ہے کیونکہ حملہ اسے ہی نہیں کہتے کہ جس میں تلوار اٹھائی جائے۔ ہر ایک کام جس سے کسی دوسرے شخص کو نقصان پہنچایا جائے وہ حملہ ہے اور ہمیشہ ایسا کام جب ایسے لوگوں کے خلاف استعمال کیا جائے جن کے ساتھ اشتراک ہونا جائز ہے ان ہی لوگوں کے خلاف یہ ذریعہ استعمال کیا جا سکتا ہے جن کے ساتھ جنگ ہو۔ اور اسلام نہ صرف یہ کہ حکومت کے خلاف جنگ کرنے سے روکتا ہے بلکہ اس کی اطاعت اور فرمانبرداری کرنے کا حکم دیتا ہے ۔ کیا جو شخص خواہ کسی دوسرے شخص کو نقصان پہنچانے کی فکر میں ہو وہ اس کا مطیع کہلا سکتا ہے ؟ (۳) اللہ تعالیٰ قرآن کریم قرآن کریم فتنہ و فسادکی راہوں سے روکتا ہے ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ا ر کی ہیں فرماتا ہے کہ وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا (الاعراف : (٥٠) یعنی زمین میں جب امن قائم ہو جائے تو اسے برباد کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہئے اسی طرح فرماتا ہے کہ والفِتْنَةُ أَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ (البقره : ١٩٢ ) فتنہ قتل سے بھی زیادہ جرم ہے اور زیادہ نقصان رساں ہے ۔ انگریزوں کے آنے سے امن حاصل ہوا یا نہیں؟ ترک موالات کے بانی سوچیں کہ کیا انگریزوں کے ہندوستان میں آنے سے پہلے اسی قسم کا امن تھا جیسا کہ آج کل ہے ؟ کیا مذہب کی اسی قسم کی آزادی تھی ؟ جانیں