انوارالعلوم (جلد 5) — Page 258
انوار العلوم جلد ۲۵۸ ترک موالات اور احکام اسلام کے مقبوضہ ملک میں رہنے کی وجہ سے پابند ہیں آزادی حاصل کی جائے اور اگر ہم ایسا نہ کریں تواللہ تعلی فرماتا ہے کہ دنیا میں فساد پڑ جائے گا۔الا تَفْعَلُوهُ کی ضمیر غائب کا مرجع شان کی شخص کو یہ خیال گزرے کہ الا تَفْعَلُوهُ b الانفال : ۷۴ ) سے یہ مراد نہیں کہ اگر پچھلی آیت کے تمام احکام پر عمل نہ کرو گے تو فتنہ ہوگا بلکہ تفعلوں کی ضمیر صرف وَالَّذِينَ كَفَرُوا بَعْضُهُمْ اولتیا ، بعض کے مضمون کی طرف جاتی ہے لیکن یاد رہے کہ اول تو لفظوں کے لحاظ سے وَالَّذِینَ كَفَرُوا بَعْضُهُم اَولِيَاءُ بَعْضٍ ، بعض میں کوئی ایسی بات نہیں جس کی نسبت یہ کہا جائے کہ اگر تم یوں نہ کرو گے تو فساد ہوگا بلکہ کفار کا حال بیان کیا ہے کہ وہ فلاں کام کرتے ہیں۔b دوسرے مفسرین بھی یہی لکھتے ہیں کہ الا تفعلوں کی ضمیر پچھلی آیت کے سارے مضمون کی طرف جاتی ہے بھی چنانچہ فتح البیان میں ہے الضَّمِيرُ يُرْجِعُ إلى ما اُمِرُوا بِهِ قَبْلَ هَذَا مِنْ مَوَالَاةِ الْمُؤْمِنِينَ وَمَنَا صَرَتِهِمْ عَلَى التَّفْصِيلِ المَذْكُورِ وَتَرکِ موالاة العفرين الغير فتح البيان جلدم مده مطبوع مصر ۱۳۰۱ھ ) یعنی یہ ضمیر ان احکام کی طرف لوٹتی ہے جو اس سے پہلے بیان ہوئے مومنوں کی دوستی اور ان کی مدد کے متعلق اسی تفصیل کے مطابق جو آیت میں بیان ہو چکی ہے (یعنی معاہدین کفار کے خلاف مسلمانوں کی مددنہ کرو اور کفار سے دوستی ترک کرنے کے متعلق۔غرض اس آیت سے ثابت ہے کہ جس قوم سے معاہدہ ہو اس کے خلاف مسلمانوں کا بھی مدد کرنا خواہ دینی امور پر ہی جھگڑا کیوں نہ ہو جائز نہیں اور الیسا کرنا موجب فساد ہوگا۔اب دیکھو کہ انگریزی حکومت سے ترک موالات کا حکم دے کر مسلمانوں نے اس حکم کو توڑا ہے یا نہیں ؟ اور کیا اس کا نتیجہ جیسا کہ قرآن کریم نے بتایا ہے فساد ہوا ہے یا نہیں ؟ اسلام نے حقوق اولی الامر کو قائم کیا ہے (۲) جس شخص نے اسلام کو ذرا تامل سے بھی مطالعہ کیا ہو وہ اس بات کو خوب جانتا ہے کہ اسلام نہایت امن پسند مذہب ہے اس کا نام اسلام ہی بتا رہا ہے کہ وہ صلح اور آشتی کو لے کر دنیا میں آیا ہے۔اس کے تمام احکام میں قیام امن کا اصل روشن نظر آتا ہے۔اس کے اُصول اور اس کے فروع تمام کے تمام اساس تمدن کے مضبوط کرنے والے ہیں بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ حقیقی طور پر تمدن کی اساس اسلام نے ہی آکر رکھی ہے۔اس سے پہلے تمدن کی عمارت بالکل زمین پر رکھی ہی۔یا تھی اور ذرا ذرا سے صدمہ سے منہدم ہو جاتی تھی۔اسی نے تمدن پر تفصیلی نظر ڈالی ہے اور اسی نے