انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 257 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 257

انوار العلوم جلد ۵ ۲۵۷ ترک موالات اور احکام اسلام کے دوست ہیں اگر تم ایسا ہی نہ کرو گے جیساکہ ہم نے پیچھے بتایا ہے توزمین میں فتنہ برپا ہو جاوے گا اور بہت فساد ہو گا۔اس آیت کے مضمون پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں مندرجہ ذیل باتیں بیان کیگئی ہیں۔مؤمنوں کو چاہئے کہ آپس میں ایک دوسرے کی مدد کیا کریں۔جو لوگ مسلمان ہوں لیکن ان علاقوں میں رہتے ہوں جن پر کفار قابض ہیں وہ جب تک ہجرت کریں ان کی مدد کرنی مسلمانوں کے لئے فرض نہیں۔ہاں اگر ان پر دین کے معاملہ میں ظلم ہوتا ہو تو ان کی مدد کرنی فرض ہے۔- بشر طیکہ یہ مدد اس قوم کے خلاف نہ ہو جس کے ساتھ تمہارا معاہدہ ہو۔کفار بھی آپس میں ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔اگر تم ان تمام پچھلے احکام کو تسلیم نہ کرو گے تو دنیا میں فتنہ پڑ جاوے گا اور بہت بڑا فساد کھڑا ہو جائے گا۔اب ان چھ باتوں کو دیکھو کہ کس طرح یہ اس امر پر روشنی ڈالتی ہیں کہ و مسلمانوں پر ایک دوسرے کی مدد کرنی واجب ہے لیکن اس قوم کے خلاف جس سے ایک مسلمان جماعت کا معاہدہ ہو دوسرے مسلمانوں کی مدد نہیں کرنی چاہئے حتی کہ اگر دین کا معاملہ بھی ہو تب بھی ان کی مدد نہیں کرنی چاہئے ، f ور نہ فساد پڑ جاوے گا۔اس آیت کا فیصلہ انگریزوں سے ہمارے ترک موالات کے متعلق اب دیکھو کہ انگریزوں کے ساتھ اگر ہندوستان يري کے مسلمانوں کا اور کوئی بھی تعلق نہ ہو تو بھی ان کے ساتھ ان کا ایک معاہدہ ہے اور وہ معاہدہ یہ ہے کہ وہ ان کی تمام کاموں میں جو حکومت کے متعلق ہیں مدد کریں گئے۔یہ معاہدہ تحریر میں نہیں ہے لیکن ہر ایک قوم جو کسی حکومت کے ماتحت رہتی ہے وہ اس معاہدہ کی پابند بھی جاتی ہے چنانچہ وہ مسلمان علماء جو اُولِي الأمْرِ مِنكُمُ (النساء :(4) کی آیت سے انگریزوں کی فرمانبرداری کا حکم تعلیم نہیں کرتے وہ ان کی اطاعت کی یہی دلیل دیتے ہیں کہ ان کے ساتھ ہمارا معاہدہ ہے میں جب ان کے ساتھ ہمارا معاہدہ ہوا تو قرآن کریم کی آیت مذکورہ بالا کے احکام کے مطابق ان کے خلاف کسی مسلمان جماعت کی بھی مدد نہیں کی جاسکتی حتی کہ مذہبی امور میں بھی ان کے خلاف دوسرے مسلمانوں کی مدد نہیں کی جاسکتی اور صرف ایک ہی طریق ان کی مدد کا ہے کہ اس علاقہ کو چھوڑ کر پہلے اس معاہدہ سے جس کے ہم برطانوی حکومت