انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 256 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 256

انوار العلوم جلد ۵ ۲۵۶ ترک موالات اور احکام اسلام بات پر صحابہ کے زمانہ سے اس وقت تک کبھی بھی عالم اسلام نے اس قدر زور نہیں دیا اس کو اس وقت ایسا اہم مسئلہ بنا دیا جاوے کہ اس کا لحاظ نہ ہونے پر جہاد اور ترک موالات کی تعلیم دینی شروع کردی اہم با دیا جاے کہ اسکا لحاظ نہ ہونے پر جلد اور ترکمالات جاوے اور مسلمانوں کو اپنے ہاتھوں ہلاکت کے گڑھے میں گرایا جائے ۔ یقینا جو جہاد خدا تعالیٰ کے منشاء کے ماتحت ہو وہ خواہ کیسی ہی کمزوری کی حالت میں ہو بد نتائج نہیں پیدا کر سکتا لیکن جو لڑائی کہ جہاد کے نام سے کی جائے یا جو جدو جہد کہ دین کی آڑ میں کی جائے حالانکہ اس کا دین سے کوئی تعلق نہ ہو یقیناً وہ سخت ناکام ہو کر رہے گی کیونکہ اللہ تعالی تو ہرگز پسند نہیں فرماتا کہ اس کے بھیجے ہوئے دین کو اس طرح بچوں کا کھیل بنایا جائے ۔ ترک موالات از روئے شریعت اس وقت نہ یہ بتا چکنے کے بعد کہ ترک موالات صرف فرض یا واجب نہیں بلکہ جائز ہی نہیں فرض اور واجب نہیں ہے میں چاہتا ہوں کہ موجودہ حالات میں شریعت اس کو جائز بھی نہیں قرار دیتی ۔ قرآن کریم موجب فساد کبیر ھے نہایت ہی مختصر طور پر یہ بتانا اس وقت ترک موالات از روئے (1) قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اِن الَّذِينَ آمَنُوا وَهَاجَرُوا وَجَاهَدُوا يَا مُوَالِهِمْ وَ انْفُسِهِمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَالَّذِينَ أَوْدُ أَوَ نَصَرُوا أُولَئِكَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يُهَاجِرُوا مَا لَكُمْ مِّنْ وَلَا يَتِهِمْ مِنْ شَيْءٍ حَتَّى يُهَاجِرُوا ، وَإِن اسْتَنْصَرُوكُمْ فِي الدِّينِ فَعَلَيْكُمُ النَّصْرُ إِلَّا عَلَى قَوْمٌ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِيثَاةٌ وَاللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرُه وَالَّذِينَ كَفَرُوا بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ إِلَّا تَفْعَلُوهُ تَكُنْ فِتْنَةٌ فِي الْأَرْضِ وَفَسَادُ كَبيره (الانفال : ۷۳ - ۷۴) یعنی ضرور وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے لائے اور جنہوں نے ہجرت کی اور اپنے مالوں اور اور جانوں کے ساتھ اللہ کے راستہ میں جہاد کیا اور جن لوگوں نے کہ جگہ دی اور مدد کی وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست اور مددگار ہیں اور جو لوگ کہ ایمان لائے اور انہوں نے ہجرت نہیں کی تم پر ان کی کس قسم کی بدر کرنا فرض ہیں جب تک کہ وہ ہجرت نہ کریں اور اگر وہ تم سے دین کے متعلق مد مانگیں تو تم پران کی مدد فرض ہوگی سوائے اس صورت کے کہ وہ اس قوم کے خلاف مدد ما مدد مانگیں جس کے اور تمہارے درمیان معاہدہ ہو اور اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال کو دیکھتا ہے ۔ اور وہ لوگ جو کافر ہوئے وہ آپس میں ایک دوسرے