انوارالعلوم (جلد 5) — Page 254
انوار العلوم جلد ۵ ۲۵۴ ترک موالات اور احکام اسلام مسلمانان ہند کمزور تھے۔تو سوال یہ ہے کہ کیا اب وہ طاقتور ہو گئے ہیں ؟ اور کیا جہاد کے لئے طاقت کی بھی کوئی شرط شریعت نے لگائی ہے ؟ غربت یا فوجوں کی کمی تو جہاد کے مواقع میں شامل ہی نہیں۔کیا عراق جزیرۃ العرب میں داخل ہے؟ دوسرا سوال کہ جزیرۃ العرب سے کیا مراد ہے۔اس کی خواہ کوئی تعریف جغرافیہ والے کریں صحابہ کے طریق عمل سے نہیں ہیں معلوم ہوتا ہے کہ عراق کو انہوں نے جزیرۃ العرب میں شامل نہیں کیا کیونکہ صحابہ کے زمانہ ہیں جبکہ اصل عرب سے کفار کو نکال دیا گیا تھا عراق سے کفار کو نہیں نکالا گیا۔بلکہ کوفہ میں اور اس کے گرد و نواح میں کثرت سے سیمی رہتے تھے بلکہ جیسا کہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے حضرت عمران نے نجران کے مسیحیوں کو وہاں سے جلا وطن کر کے شام اور عراق میں آباد کر دیا تھا اور وہاں ان کو جائیدادیں دے دیں تھیں۔اب اگر عراق بھی عرب میں شامل ہوتا۔تو کیا یہ ممکن تھا کہ حضرت عمر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قول کو پورا کرنے کے لئے مسیحیوں کو نجران سے تو نکالتے اور اس قدر تعہد کرنے کے بعد پھر ان کو عراق میں (اگر وہ عرب کا حصہ ہے ) لاکر آباد کر دیتے جغرافیہ کے لحاظ سے یا طبعی لحاظ سے عرب کی حدود خواہ کوئی ہوں مگر صحابہ نے عرب کے جو معنے سمجھے ہیں وہ خود حضرت عمریضہ کے قول اور فعل سے جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وصیت کے پورا کرنے والے ہیں خوب کھل جاتے ہیں۔طبری سے ثابت ہے کہ حضرت عمر نے کیعلی بن امیہ کو جنہیں انہوں نے اس غرض سے بحران بھیجا تھا کہ وہاں کے مسیحیوں کو جلا وطن کر دیں۔یہ حکم دیا تھا کہ ان کو بتا دیا کہ ہم ان کو خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے ماتحت جلا وطن کرتے ہیں کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ لم نے فرمایا تھا کہ جزیرہ عرب میں دو دین نہ رکھے جاویں ؛ ان لوگوں کو جلا وطن کر کے کہاں بھیجا ؟ اس کے متعلق فتوح البلدان میں لکھا ہے کہ حضرت عمریضہ نے ان لوگوں کو یہ خط لکھ کر دیا کہ اہل شام اور ابل عراق میں سے جن کے پاس یہ خط پہنچے ان کو چاہئے کہ ان کو زمین برائے کاشت اچھی طرح سے دیں اور جس زمین کو یہ آباد کریں وہ ان کی یمین کی زمین کے بدلہ میں ان ہی کی ہو جاوے گی" شائد کہا جائے کہ عراق سے مراد عراق عجم ہو گا۔لیکن جیسا کہ تاریخ سے ثابت ہوتا ہے ان لوگوں کو کوفہ کے پاس زمینیں ملی تھیں اور وہاں انہوں نے نجران کی یادگار میں نجرانیہ نام ایک قصبہ بھی آباد کیا تھا اب سوچو کہ حضرت عمریض کے نزدیک عراق اگر عرب میں شامل ہوتا یا صحابہ میں سے کسی کے خیال میں بھی یہ بات ہوتی تو کیا یہ ممکن تھا کہ وہ مسیحیوں کو اس علاقہ میں جائیدادیں دیتے ؟