انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 253 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 253

انوار العلوم جلد ۵ ۲۵۳ ترک موالات اور احکام اسلام کرنی چا۔ چاہئے لیکن جب حالات مناسب نہ ہوں یا مسلمان طاقت نہ رکھتے ہوں تو ان امور کے پورا کرنے کے لئے جہاد اور قتال فرض نہیں ہوتا ورنہ حضرت ابو بکر جو پہلے خلیفہ تھے اور اپنے تقوی اور غیرت اسلامی میں سب صحابہ سے بڑھے ہوئے تھے ان پر سخت الزام آتا ہے ۔ حضرت عمرؓ کے بعد بھی اسلامی حکومت کے پھر جب ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ حضرت عمر کے بعد بھی اسلامی حکومتوں کی آنکھوں کے سامنے یہود جزیرہ عرب میں رہتے تھے سامنے حجاز سےباہر سیمی اور بیوردی عرب کے علاقوں میں بستے رہے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ امت اسلامیہ نے کبھی بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے وہ معنی نہیں لئے جو اب لئے جاتے ہیں۔ حجاز سے باہر عرب میں مسیحی قبائل تیسری صدی ہجری تک بیتے رہتے ہیں اور سینکڑوں سال سے یمن کے شہروں میں یہودیوں کی ایک معقول تعداد بس رہی ہے اور صنعاء کی ہیں ہزار کی آبادی میں سے قریباً دو ہزار یہودی ہے اگر عراق عرب کا حصہ ہے تو ترکی حکومت کے زمانہ میں بھی بغداد بجائے ایک اسلامی شہر کہلانے کے یہودی شہر کہلانے کا مستحق تھا ۔ کیونکہ وہاں کے سب بڑے بڑے مکان اور بڑی بڑی تجارتی کو ٹھیاں یہودیوں ہی کے قبضہ میں تھیں ۔ غیر مسلم اقتدار عرب پر یہ تو عرب کی غیر مسلم آبادی کا حال ہے اب رہا غیر مسلم اقتدار کا سوال ۔ سو اس کا جواب بھی سلطان المعظم کے عمل سے ثابت ہے یہ علاقہ عدن پر انگریزوں کا قبضہ ایک عرصہ سے چلا آتا ہے ۔ الہ سے ثالثہ تک ایک کمیٹی ترکوں اور انگریزوں کی بیٹھی تھی جس نے یہ فیصلہ کیا کہ شیخ سعید کے پاس دریائے بانا کے ساتھ ساتھ قتیبہ نامی قصبہ کے جنوب مشرق کی طرف سے ایک حد صحرائے اعظم کی طرف کھینچی جاوے اور جنوبی علاقہ کو انگریزی ریزی اقتدار میں دیا جائے ۔ یہ علاقہ تو بلاشبہ عرب کا حصہ ہے مگر خود سلطان المعظم نے انگریزوں کے سپرد کر دیا۔ پس وہ لوگ جو ان کو خلیفہ تسلیم کرتے ہیں وہ کیونکر کہہ سکتے ہیں کہ عرب کے کسی پرکسی غیر مذہبی حکومت کا قبضہ ہونے پر جو جہاد نہ کرے وہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے کیا وہ اس طرح خود سلطان المعظم اور ان کی حکومت پر اعتراض نہیں کرتے اور کیا یہ عجیب نہیں کہ جب عدن پر جو یقینا عرب کا حصہ ہے قبضہ کیا گیا تھا اور جب اس قبضہ کو سلطان المعظم کی حکومت نے تسلیم کر لیا تھا اس وقت تو اس پر اعتراض نہ کیا گیا ۔ اور اب عراق پر قبضہ کرنے پر رجس کے عرب کا حصہ ہونے میں شبہ ہے ) اعتراض کیا جاتا ہے۔ اگر کہا جائے کہ اس وقت ترکی حکومت کمزور تھی یا حصہ