انوارالعلوم (جلد 5) — Page 233
انوار العلوم جلد ۵ ۲۳۴۳ ترک موالات اور احکام اسلام کہتے ہیں کہ نصاری میں کوئی خوبی نہیں اور نصاری کہتے ہیں کہ یہود میں کوئی خوبی نہیں حالانکہ دونوں بائیں پڑھتے ہیں (جس میں کئی خوبیاں ہیں ، اسی طرح وہ لوگ جو جاہل تھے کہا کرتے تھے یعنی ایک دوسرے کی خوبیوں کو بالکل نظر انداز کر دینا اور لڑائی جھگڑے کے وقت نیکی اور بدی کا موازنہ نہ کرنا تو جہلاء کا کام ہے۔ غرض اس آیت میں اس بات پر زور نہیں دیا گیا کہ اگر یہود سلمان ہوتے تو کفار سے دوستی نہ کرتے کیونکہ یہ تو ایسی بات تھی جس کے کہنے میں کوئی فائدہ نہ تھا ۔ اس میں کیا شبہ ہے کہ یہود کی چونکہ کفار سے جنگ نہ تھی وہ ان سے تعلق رکھتے تھے اگر وہ مسلمان ہو جاتے تو چونکہ مسلمانوں سے کفار کی جنگ تھی وہ ان سے دوستی ترک کر دیتے پیس آیت کا یہی مطلب ہے کہ یہود مذ ہبی معاملہ میں بھی مشرکوں کی تائید کرتے ہیں اور مسلمانوں کے مذہب کی حقارت کرتے ہیں اور ان کو مسلمانوں سے اچھا قرار دیتے ہیں حالانکہ ان سے ان کو مذہب میں کوئی اشتراک نہیں لیکن مسلمانوں سے سینکڑوں اشتراک کی وجوہ موجود ہیں اگر یہ مسلمان ہوتے تو ایسا نہ کرتے یعنی اسلام نے جو اخلاق اور تہذیب سکھائی ہے وہ اس بات سے مانع ہے کہ کوئی شخص عداوت میں حق کو بھی ترک کر دے اور گویا اس طرح یہودی مذہب پر اسلام کی فضیلت ثابت کی ہے ۔ رافسوس ! کہ آج با وجود قرآن کریم کے احکام صریح کے مسلمان بھی اسی غلطی میں مبتلا ہیں۔ بار ہا متعصب لوگ کہہ دیا کرتے ہیں کہ ان احمدیوں سے تو ہندو اور عیسائی اچھے ہیں ۔ بعض لوگ اپنے رشتہ داروں سے کتے ہیں کہ تم عیسائی ہو جاؤ تو پرواہ نہیں مگر احمدی نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کی آنکھیں کھولے ، پس اس آیت سے ترک موالات کا حکم نکالنا صریح بے انصافی ہے اور قرآن کریم کی آیات کا غلط استعمال ہے ۔ اگر اس آیت میں عام دوستی مراد لی جائے اگر اس آیت کے وہ معنی نہ بھی کئے جاویں جو میں نے کئے ہیں اور یہی مراد لی تو بھی اس سے ترک موالات ثابت نہیں ہوتی جانتے کہ اس آیت میں تمام دوستی مراد ہے تو بھی یہ آیت ترک موالات کی تائید میں نہیں ہو سکتی بلکہ اس کے خلاف ہے کیونکہ اس آیت میں تو یہودیوں پر افسوس کیا گیا ہے کہ وہ مشرکوں سے دوستی کرتے ہیں لیس جب قرآن کریم یہود پر اس لئے افسوس کرتا ہے کہ وہ کیوں مسلمانوں کے مقابلہ میں جو کتاب کے ماننے والے ہیں مشرکوں سے دوستی رکھتے ہیں تو کیا یہ عجیب بات نہیں کہ اس آیت سے یہ استدلال کیا جائے کہ انگریزوں سے جو سیجی ہیں اور قرآن کریم کے ارشاد أَقْرَبَهُمْ مَوَدَّةً کے مصداق ہیں یعنی سب کفار سے زیادہ مسلمانوں سے محبت رکھنے و ہیں ترک موالات کیا جائے اور دوسری اقوام سے جو اہل کتاب نہیں ہیں دوستی کی جائے کیا اس والے سے