انوارالعلوم (جلد 5) — Page 231
انوار العلوم جلد ۵ ۲۳۱ ترک موالات اور احکام اسلام ایک سوال اور اس کا جواب شائد اس موقع پر یہ کہا جا دے کہ اس میں چونکہ یہ ارشاد ہے کہ اگر یہود خدا اور رسول پر ایمان لاتے تو ایسا نہ نہ کرتے اس لئے اس سے استدلال ہو سکتا ہے کہ مسلمانوں کے لئے کفار سے کوئی جائز نہیں۔ کہ لئے سے سو اس کا جواب یہ ہے کہ جیسا کہ میں ابھی ثابت کروں گا یہود پر اس آیت میں محض کفار کی دوستی کا الزام نہیں لگایا گیا بلکہ اصل اعتراض اور کیا گیا ہے پس با وجود اس فقرہ کے کہ اگر یہود مسلمان ہوتے کے تو ایسا نہ کرتے اس سے ترک موالات کی تائید میں استدلال کرنا درست نہیں ۔ اس آیت کا خلاصہ مضمون یہ ہے کہ یہود میں سے بہت سے لوگ ایسے ہیں جو مشرکوں سے دوستی کرتے ہیں حالانکہ اگر یہ مسلمان ہوتے تو ایسا نہ کرتے ۔ اس خلاصہ پر ایک سرسری نظر ڈالنے سے بھی انسان سمجھ سکتا ہے کہ اس جگہ جگہ پر پر اللہ تعالیٰ کا یہ یہ منشاء نہیں ہے کہ ہے کہ یہود یہود مشرکوں سے سے کیوں دوستی کرتے ہیں ؟ ؟ اگر یہ یہ مسلمان ہوتے تو مشرکوں سے دوستی نہ کرتے کیونکہ نہ تو یہود کا مشرکوں سے دوستی کرنا کوئی عجیب بات تھی اور نہ یہ قابل بیان بات تھی کہ اگر مسلمان ہوتے تو ایسا نہ کرتے ۔ یہود کا مشرکوں سے دوستی کرنا اس لئے قابل تعجب نہیں کہ ان کی مشرکوں سے جنگ نہ تھی پس کوئی وجہ نہ تھی کہ وہ ان سے دوستانہ تعلق نہ رکھتے اور یہ بات کہ اگر وہ مسلمان ہو جاتے تو مشرکوں سے دوستی نہ کرتے اس لئے قابل بیان نہیں کہ مسلمانوں کی کفار سے چونکہ جنگ تھی جو ان کے ساتھ شامل ہوتا وہ ضرور مشرکوں سے قطع تعلق کر ہی لیتا پس اگر یہ معنے کئے جاویں جو اوپر بیان ہوئے ہیں تو نہ پہلا جزو آیت کا قابل تعجب معلوم ہوتا ہے اور نہ دوسرا قابل بیان ۔ اور ایسے معنوں کو قرآن کریم کی طرف منسوب کرنا جو حکمت سے خالی ہوں سخت ظلم ہے۔ قرآن کریم تو وہ کتاب ہے کہ اس کا ایک ایک لفظ نہیں بلکہ ایک ایک حرف بلکہ ایک ایک حرکت معنی خیز ہے اور اس کا کوئی فقرہ بھی حکمت سے خالی نہیں اور سارے کا سارا مفید معلومات اور زبردست صداقتوں سے پر ہے تم ایک معمولی عقل کے آدمی کی نسبت بھی یہ امید نہ کرو گے کہ وہ ان خصوصیات کی نسبت جو اس کی جماعت کے ساتھ تعلق رکھتی ہوں یہ کہے کہ فلاں جماعت ایسا کیوں نہیں کرتی ؟ اگر وہ ہمارے ساتھ ہوتی تو وہ بھی ایسا ہی کرتی ۔ کوئی سمجھ دار مسلمان یہ فقرہ نہیں کہے گا کہ افسوس ہے کہ مسیحی نماز نہیں پڑھتے اگر وہ مسلمان ہوتے تو وہ بھی نماز پڑھا کرتے ۔ یا یوں نہ کہے گا کہ افسوس ہے کہ ہندو لوگ حج نہیں کرتے اور وہ مسلمان ہوتے تو وہ بھی حج کرتے ۔ یا یہ کہ افسوس ہے کہ سکھ لوگ رمضان کے روزے نہیں رکھتے اگر وہ بھی مسلمان ہوتے تو روزے رکھتے ۔ نماز اور زکواۃ اور ج تو اسلام کے خاص احکام ہیں اس میں کیا شک ہے کہ جو مسلمان نہیں وہ یہ کام نہ کرے گا کیونکہ احکام