انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 212 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 212

انوار العلوم جلد ۵ ۲۱۲ ترک موالات اور احکام اسلام اچھا ہے اور اس کی تائید میں سورہ ممتحنہ کی یہ آیت پیش کی جاتی ہے۔لَا يَنْهَكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لم يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ أَن تَبَرُوهُمُ وَتُقْسِطُوا اِلَیهِمْ اِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ (المتة : 9 ) یعنی اللہ تم کو ان لوگوں سے جو تم سے لڑے نہیں اور جنہوں نے تم کو تمہارے گھروں سے نہیں نکالا۔نیکی کرنے یا انصاف کا معاملہ کرنے سے منع نہیں کرتا بلکہ اللہ تعالیٰ تو انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔مگر ہم سوال کرتے ہیں کہ یہی آیت انگریزوں سے بھی ترک موالات کرنے سے روکتی ہے اور ان سے معاملات کا سلسلہ جاری رکھنے کی ہدایت کرتی ہے تو پھر ان سے ترک موالات کرنے کا کیوں فتوی دیا جاتا ہے ؟ اللہ تعالیٰ نے اگلی ہی آیت میں فرمایا ہے کہ صرف ان ہی لوگوں سے ترک موالات کی جاسکتی ہے جو مسلمانوں سے دین کے بارے میں لڑے ہوں یا جنہوں نے ان کو اپنے ملکوں سے نکال دیا ہو یا دوسرے لوگوں کو ان کے نکالنے میں مدددی ہو جیسا کہ فرماتا ہے۔اِنَّمَا يَنُهُكُمُ اللهُ عَنِ الَّذِينَ قَاتَلُوكُمْ في الدِّينِ وَ اَخْرَجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ وَظَا هَرُوا عَلَى إِخْرَاجِكُمْ أَن تَوَلَّوهُمْ وَمَن يَتَوَلَّهُم فَا لَيْكَ هُمُ الظَّلِمُونَ (المتخنة : 10 ) یعنی اللہ تعالی تم کو صرف ان لوگوں فَأُولَئِكَ (۱۰) سے دوستی کرنے سے روکتا ہے جو تم سے دین کے متعلق لڑے ہوں یا انہوں نے تم کو تمہارے گھر سے نکال دیا ہو یا تمہارے نکالنے میں مدد دی ہو اور جو کوئی ایسے لوگوں سے دوستی کرے وہ ظالموں میں سے ہے۔اب ہر ایک شخص دیکھ سکتا ہے کہ نہ تو انگریز مذ ہب کی خاطر مسلمانوں سے لڑے ہیں اور نہ انہوں نے مسلمانوں کو مجبور کیا ہے کہ وہ یا تو اپنا دین چھوڑ دیں یا اپنے ملک سے نکل جاویں اور نہ انہوں نے اس کام میں دوسرے لوگوں کی مدد کی ہے۔میں نے گھروں سے نکالنے کے متعلق بھی مذہب کی شرط لگائی ہے اس لئے میرے نزدیک یہ شرط ضروری ہے کیونکہ کوئی نہیں کہہ سکتا کہ اگر کوئی حکومت کسی مسلمان کو کسی دنیوی جرم کی سزا میں ملک بدر کر دے تو مسلمانوں کو اس حکومت سے ترک موالات کا حکم ہو جاتا ہے اسی دھوکے میں پڑ کر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دشمن آپ کے خلاف لوگوں کو لڑائی کے لئے اکساتے تھے انہوں نے بعض لوگوں کو ملک بدر کر دیا تھا اور ان کے دشمن کہتے تھے کہ اس نے مسلمانوں کو ان کے گھروں سے نکال دیا ہے اس لئے اس کا مقابلہ جائز ہے۔مگر ہمیں اس معاملہ میں قیاس کی بھی ضرورت نہیں خود قرآن کریم نے اس مسئلہ کو صاف کر دیا ہے کہ اخراج سے مراد صرف وہ اخراج ہے جو اس لئے کیا گیا ہو کہ اس نے فلاں دین کو قبول کر لیا ہے چنانچہ اس اخراج کی تشریح جس کا اس آیت میں جو او پر گزرچکی ہے