انوارالعلوم (جلد 5) — Page 211
انوار العلوم جلد ۵ ٧٠ R ۲۱۱ ترک موالات اور احکام اسلام جماعت ہے اللہ کی ۔ یا د رکھو کہ خدا کی جماعت ہی کامیاب ہوتی ہے۔ (ترجمہ منقول از فتوئی ) يَا يُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوكُمْ أَوْلِيَاءَ تُلْقُونَ إِلَيْهِمُ بِالْمَوَدَّةِ وَقَدْ كَفَرُوا بِمَا جَاءَكُم مِّنَ الْحَقِّ المتمتن : ۲) اے ایمان والو! میرے دشمن اور اپنے دشمن کو رفیق مت بناؤ پیغام بھیجتے ہو تم ان کی طرف دوستی کا حالانکہ وہ منکر ہوتے ہیں اس سچائی سے جو تمہارے پاس بھیجی ہے ۔ ترجمہ منقول از فتوی) ان آیات سے استنباط کر کے یہ فیصلہ دیا گیا ہے کہ چونکہ انگریزوں نے مسلمانوں سے جنگ کی اور پھر ان میں سے بعض کو کپڑ کر جلا وطن کر دیا اور بعض علاقوں سے مسلمانوں کی حکومت کو اُٹھا دیا جو وہ بھی اخراج کا حکم رکھتا ہے اور اور مسلمانوں سے یہ لوگ عداوت رکھتے ہیں اور ان کے دین کو حقیر خیال کرتے ہیں اس لئے ان سے ترک موالات کرنی ضروری ہے ۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ کون سے کافروں سے ترک موالات کرنی چاہئے ای و یا این که این آیات میں اللہ تعالیٰ کفار سے دوستی کرنے سے منع فرمایا ہے اور ان کی مدد کرنی یا ان سے مدد لینی جائز نہیں رکھی مگر ساتھ ہی اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ہر ایک کافر کی نسبت یہ حکم نہیں ہے کہ اس سے دوستی نہ کی جاوے یا یہ کہ اس کے ساتھ موالات نہ کی جاوے چنانچہ خود مولوی محمود الحسن صاحب دیوبندی نے اپنے فتوی میں اور مولوی کفایت اللہ صاحب دہلوی نے اپنے لیکچر میں بیان کیا ہے کہ ہندوؤں سے موالات جائز ہے حالانکہ یہ دونوں قومیں قرآن کریم کی رو سے کفار میں شامل ہیں پس جب ہندوؤں سے جو گو سیاسی طور پر انگریزوں سے ہمارے زیادہ قریب ہیں کیونکہ ہمارے اہل وطن ہیں لیکن مذہبی طور پر سیجیوں کی نسبت ہم سے دور ہیں کیونکہ ہم سے مسیحی ان اہلِ کتاب میں سے ہیں جن کا قرآن کریم نے نام لے کر ذکر کیا ہے اور اہل ہنود اگر اہل کتاب میں سے ہیں تو اس طبقہ میں سے ہیں جن کا ذکر قرآن کریم نے نام لے کر نہیں کیا ۔ اسی طرح مسیحی بہت سے انبیاء کرام علیم اسلام کو مانتے ہیں اور صرف ہمارے آنحضرت صلی اللہ علہ سلم کے منکر ہیں حالانکہ ہندو صاحبان بہت سے اسلام کو مانتے ہیںاور صرف ہمارے علی الہ ہی اس کے منکر ہیں حالانکہ ہند و ہت سے انبیاء کرام کی نبوت کے منکر ہیں پس مذہبی نقطۂ خیال سے سیمی ہندوؤں کی نسبت ہمارے زیادہ قریب ہیں اور جب کسی مسئلہ پر مذہبی طور پر غور کرنا ہو تو مذہبی نقطۂ خیال ہی کو مد نظر رکھنا ہو گا ۔ اندریں حالات اگر پر ہو ہندوؤں یا سکھوں سے موالات ہو سکتی ہے تو مسیحیوں سے بدرجہ اولی ہو سکتی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ گو ہنود سیمیوں سے مذہباً زیادہ دور ہوں لیکن ہنود میں وہ بات نہیں پائی جاتی جس کی وجہ سے ترک موالات فرض ہوتی ہے۔ پس قرآن کریم کے حکم کے مطابق ان سے موالات کرنا منع نہیں ہے بلکہ