انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 193 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 193

انوار العلوم جلد ۵ ۱۹۳ لوح المدى -6 نماز کے علاوہ ایک جگہ بیٹھ کر تسبیح وتحمید و کبر کرنا یا کاموں سے فراغت کے وقت تسبیح و تحمید و تکبیر کرنا دل کو روشن کر دیتا ہے ۔ اس میں آج کل لوگ بہت سستی کرتے ہیں نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ روحانی صفائی بھی حاصل نہیں ہوتی نمازوں کے پہلے یا بعد اس کا خاص موقع ہے ۔ -A ۰۹ -۱۰ ہر ایک شخص کا فرض ہے کہ مذہب کو سچا سمجھ کر مانے یوں ہی اگر پہنچے دین کو بھی مان لیا جائے تو کچھ فائدہ نہیں لیکن جب پوری طرح یقین کر کے ایک بات کو مانا جائے تو پھر کسی کا حق نہیں کہ اس کی تفصیلات اگر اس کی عقل کے مطابق نہ ہوں تو ان پر حجت کرے ۔ روحانیات کا سلسلہ تو خدا تعالیٰ کی طرف سے قائم ہے۔ ہیں عقل اور مذہب کا مقابلہ نہیں بلکہ عقل کو مذہب پر حاکم بنانے سے یہ مطلب ہو گا کہ آیا ہماری عقل زیادہ معتبر ہے یا خدا تعالیٰ کا علم نعوذ بالله من ذلك ۔ ہاں یہ بات دریافت کرنی بھی ضروری ہے کہ جس چیز کو ہم مذہب کی طرف منسوب کرتے ہیں وہ مذہب کا حصہ ہے بھی یا نہیں ۔ آج کل یورپ سے جو آواز آوے اور وہ کسی فلاسفر اور سائنس دان کی طرف منسوب ہو تو جھٹ اس کا نام علم رکھ لیا جاتا ہے اور اس کے خلاف کہنے والوں کو علم کا دشمن کہا جاتا ہے ۔ یہ نادانی ہے۔ جو بات مشاہدوں سے ثابت ہو اس ا انکار کرنا جہالت ہے۔ لیکن بلا ثبوت صرف بعض فلسفیوں کی تھیوریوں کو علم سمجھ کر قبول کرنا بھی کم عقلی ہے ۔ ہیں وقت بہت سے یورپ کے نو ایجاد علوم تھیوریوں (قیاسات) سے بڑھ کر حقیقت نہیں رکھتے ان کے اجزاء ثابت ہیں لیکن ان کو ملا کر جو نتیجہ نکالا جاتا ہے وہ بالکل غلط ہوتا ہے ۔ لیکن علوم جدیدہ کے شیدائی اس امر پر غور کئے کا بغیر ان وہموں کی اتباع کرنے لگ جاتے ہیں ۔ مومن کا فرض ہے کہ بجائے حقارت اور نفرت سے کام لینے کے محبت سے کام لے اور امن کو پھیلائے مؤمن کا وطن سب دنیا ہے۔ اس سے جہاں تک ممکن ہو تمام فریقوں میں جائز طور پر صلح کرانے کی کوشش کرے ۔ اور قانون کی ۰۱۲ پابندی کرے ۔ اچھی بات خواہ دین کے متعلق ہو خواہ دنیا کے متعلق اچھی ہی ہوتی ہے مگر بہت دفعہ میری باتیں اچھی شکل میں پیش کی جاتی ALL THAT GLITTERS IS NOT GOLD ہیں اس کا بھی خیال رکھنا چاہئے ۔ انگریزی کی مثل ہے دنیاوی ترقی کے ساتھ اگر دین نہیں تو نہیں کچھ خوشی نہیں ہو سکتی کیونکہ اگر یہ اصل مقصد ہوتی تو پھر ہمیں اسلام اختیار کرنے کی کیا ضرورت تھی ۔ پھر سیحیت جو اس وقت ہر قسم کے دنیا دی سلمان رکھتی ہے اس کو کیوں نہ قبول کر لیتے ۔ آج کل لوگ سلف رسپیکٹ کے نام سے بزرگوں کا ادب چھوڑ بیٹھے ہیں ۔ حالانکہ صحیح عزت کے لئے ادب کا قائم رکھنا ضروری ہے۔ اگر ادب نہ ہو تو تربیت بھی درست نہیں ہوسکتی ۔ سلف رسپیکٹ کے تو یہ معنی ہیں کہ انسان کینہ نہ بنے نہ کہ بے ادب ہو جائے ۔ ۱۴- کسی زمانہ ، کسی وقت، کسی حالت میں اسلام کی تبلیغ کو نہ چھوڑو ۔ ایک دفعہ اس کے خطرناک نتائج دیکھ چکے ہیں ۔ نہ تنگی تمہاری کوششوں کو سست کرے کہ ہر تکلیف سے نجات اسی کام سے وابستہ ہے اور نہ ترقی تم کو سست کر دے کیونکہ جب تک الم