انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 193 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 193

انوار العلوم جلد ۵ -|· 11- ۱۴ لوح الندى نماز کے علاوہ ایک جگہ بیٹھ کر تسمع وتحمید کی کرنا یا کاموں سے فراغت کے وقت تسبیح وتحمید و تکبیر کرنا دل کو روشن کر دیتا ہے۔اس میں آج کل لوگ بہت سمستی کرتے ہیں نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ رُوحانی صفائی بھی حاصل نہیں ہوتی نمازوں کے پہلے یا بعد اس کا خاص موقع ہے۔ہر ایک شخص کا فرض ہے کہ مذہب کو سچا سمجھ کر مانے یوں ہی اگر پیچھے دین کو بھی مان لیا جائے تو کچھ فائدہ نہیں لیکن جب پوری طرح یقین کر کے ایک بات کو مانا جائے تو پھر کسی کا حق نہیں کہ اس کی تفصیلات اگر اس کی عقل کے مطابق نہ ہوں تو ان پر محبت کرے۔روحانیات کا سلسلہ تو خدا تعالیٰ کی طرف سے قائم ہے۔بہیں عقل اور مذہب کا مقابلہ نہیں بلکہ عقل کو مذہب پر حاکم بنانے سے یہ مطلب ہوگا کہ آیا ہماری عقل زیادہ معتبر ہے یا خدا تعالیٰ کا علم نعوذ باللہ من ذلك۔ہاں یہ یات دریافت کرنی بھی ضروری ہے کہ جس چیز کو ہم مذہب کی طرف منسوب کرتے ہیں وہ مذہب کا حصہ ہے بھی یا نہیں۔آج کل یورپ سے جو آواز آوے اور وہ کسی فلاسفر اور سائنس دان کی طرف منسوب ہو تو جھٹ اس کا نام علم رکھ دیا جاتا ہے اور اس کے خلاف کہنے والوں کو علم کا دشمن کہا جاتا ہے۔یہ نادانی ہے۔جو بات مشاہدوں سے ثابت ہو اس کا انکار کرنا جہالت ہے۔لیکن بلا ثبوت صرف بعض فلسفیوں کی تھیوریوں کو علم سمجھ کر قبول کرنا بھی کم عقلی ہے۔اس وقت بہت سے یورپ کے نو ایجاد علوم تھیوریوں (قیاسات سے بڑھ کر حقیقت نہیں رکھتے ان کے اجزاء ثابت ہیں لیکن ان کو ملا کر جو نتیجہ نکالا جاتا ہے وہ بالکل غلط ہوتا ہے۔لیکن علوم جدیدہ کے شیدائی اس امر پر غور کئے بغیر ان وہموں کی اتباع کرنے لگ جاتے ہیں۔مومن کا فرض ہے کہ بجائے حقارت اور نفرت سے کام لینے کے محبت سے کام لے اور ان کو پھیلا ہے مومن کا وطن سب دنیا ہے۔اس سے جہاں تک ممکن ہو تمام فریقوں میں جائز طور پر ضلع کرانے کی کوشش کرے۔اور قانون کی پابندی کرے۔اچھی بات خواہ دین کے متعلق ہو خواہ دنیا کے متعلق اچھی ہی ہوتی ہے گر بہت دفعہ بری باتیں اچھی شکل میں پیش کی جاتی ہیں اس کا بھی خیال رکھنا چاہئے۔انگریزی کی مثل ہے دنیاوی ترقی کے ساتھ اگر دین نہیں تو ہمیں کچھ خوشی نہیں ہو سکتی کیونکہ اگر یہ اصل مقصد ہوتی تو پھر میں اسلام اختیار کرنے کی ALL THAT GLITTERS IS NOT GOLD کیا ضرورت تھی۔پھر سیجیت جو اس وقت ہر قسم کے دنیا دی سلمان رکھتی ہے اس کو کیوں قبول کر لیتے۔آج کل لوگ سلف ریسپکٹ کے نام سے بزرگوں کا ادب چھوڑ بیٹھے ہیں۔حالانکہ صحیح عزت کے لئے ادب کا قائم رکھنا ضروری ہے۔اگر ادب نہ ہو تو تربیت بھی درست نہیں ہو سکتی۔سلف رسپیکٹ کے تو یہ معنی ہیں کہ انسان کمینہ نہ بنے نہ کہ بے ادب ہو جائے۔کسی زمانہ ، کسی وقت، کسی حالت میں اسلام کی تبلیغ کو نہ چھوڑو۔ایک دفعہ اس کے خطرناک نتائج دیکھ چکے ہیں۔نہ نگی تمہاری کوششوں کو سست کرے کہ ہر تکلیف سے نجات اسی کام سے وابستہ ہے اور نہ ترقی تم کو سست کر دے کیونکہ جب تک