انوارالعلوم (جلد 5) — Page 192
انوار العلوم جلد ۱۹۲ ج الأندى جب تک انسان کسی کام کا عادی اپنے آپ کو نہ بنائے اس کا کرنا دو بھر ہو جاتا ہے پس یہ غلط خیال ہے کہ جبے مہ داری پڑے گی دیکھا جائے گا۔آج ہی سے اپنے آپ کو خدمت دین کی عادت ڈالنی چاہئے۔کبھی خدمت دین کر کے اس پر فخر نہیں کرنا چاہئے یہ خدا کا فضل ہوتا ہے کہ وہ کسی کو خدمت دین کی توفیق دے بندہ کا احسان کہ وہ خدمت دین کرتا ہے۔اور یہ تو حد درجہ کی بیوقوفی ہے کہ خدمت دین کر کے کسی بندہ پر احسان سکے یا اس سے کسی خاص سلوک کی امید رکھے۔i اس زمانہ کا اثر اس قسم کا ہے کہ لوگ اللہ تعالیٰ کے سامنے عجزو نیاز کرنے کو بھی وضع کے خلاف سمجھتے ہیں اور خدا کے حضور میں ماتھے کا خاک آلود ہونا انہیں ذلت معلوم ہوتا ہے حالانکہ اس کے حضور میں تذل ہی اصل عزت ہے۔اس زمانہ میں مادی ترقی کے اثر سے روپے کی محبت بہت بڑھ گئی ہے اور لوگوں کو ہر ایک معاملہ میں روپے کا خیال زیادہ رہتا ہے۔روپے کمانا برا نہیں لیکن اس کی محبت خدا تعالیٰ کی محبت کے ساتھ مل کر نہیں رہ سکتی۔جو شخص رات دن اپنی تنخواہ کی زیادتی اور آمد کی ترقی کی فکر میں لگا رہتا ہے اس کو خدا تعالیٰ کے قرب کے حاصل کرنے اور بنی نوع انسان کی ہمدردی کا موقع کب مل سکتا ہے۔مومن کا دل قانع ہونا چاہئے۔ایک حد تک کوشش کرے پھر جو کچھ ملتا ہے اس پر خوش ہو کہ خدا تعالیٰ کی نعمت کی قدر کرے۔اس بڑھی ہوئی حرص کا نتیجہ اب یہ نکل رہا ہے کہ لوگ خدمت دیں کی طرف بھی پوری توجہ نہیں کر سکتے اور دینی کاموں کے متعلق بھی ان کا یہی سوال رہتا ہے کہ ہمیں کیا ملے گا اور مقابلہ کرتے رہتے ہیں کہ اگر فلاں دنیا کا کام کریں تو یہ ملتا ہے اس دینی کام پر یہ ملتا ہے ہمارا کس میں فائدہ ہے۔گویا وہ دینی کام کسی کا ذاتی کام ہے جس کے بدلہ میں یہ معاوضہ کے خواہاں ہیں۔حالانکہ وہ کام ان کا بھی کام ہے اور جو کچھ ان کو مل جاتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں میں سے ہے۔اور اس مال کی محبت کا ہی نتیجہ ہے کہ دنیا کا امن اُٹھ رہا ہے۔ضروریات ایسی شے ہیں کہ ان کو جس قدر بڑھاؤ بڑھتی جاتی ہیں۔پس قناعت کی حد بندی توڑ کر پھر کوئی جگہ نہیں رہتی جہاں انسان قدم کا سکے۔کروڑوں کے مالک بھی تنگی کے شاکی نظر آتے ہیں۔جس کے ہاتھ سے قناعت گئی اور اور مال کی محبت اس کے دل میں پیدا ہوئی وہ خود بھی دکھ میں رہتا ہے اور دوسروں کو بھی دکھ دیتا ہے خدا تعالیٰ سے تو اس کا تعلق ہو ہی نہیں سکتا۔فکر مسکین رہے یعنی یہ غم ہ ہو کہ اگر غریب کی مدد کریں گے تو ہمارا روپیہ کم ہو جائے گا پھر ضرورت کے وقت کیا کرینگے جو اس وقت متحاج ہے اس کی دستگیری کرو اور آئندہ ضروریات کو خدا پر چھوڑ دو۔بیج ایک نہایت ضروری فرض ہے ، نئی تعلیم کے دلدادہ اس کی طرف سے بہت غافل ہیں حالانکہ اسلام کی ترقی کے اسباب میں سے یہ ایک بڑا سبب ہے۔طاقت حج سے یہ مراد نہیں کہ کروڑوں روپیہ پاس ہو۔ایک معمولی حیثیت کا آدمی بھی اگر اخلاص سے کام سے تو حج کے سامان مہیا کر سکتا ہے۔