انوارالعلوم (جلد 5) — Page 183
انوار العلوم جلد ۵ ۱۸۳ معاہدہ ترکیہ اور مسلمانوں کا آئندہ رویہ کچھ ان دونوں قوموں نے پچھلے دنوں میں مسلمانوں سے کیا ہے اس کو مد نظر رکھتے ہوئے یہ بات یقینی طور پر کہی جا سکتی ہے کہ ان کی حکومت میں باوجود یورپ کی تمام تسلیوں کے مسلمانوں کو امن نہ ہو گا اسی طرح یورپ کے نئے تغیرات کے ماتحت اور کئی علاقوں میں بھی مسلمانوں کو امن نہ ہو گا پس اس خطرہ سے ان ممالک کے بھائیوں کو بچانے کے لئے فوراً بلا تاخیر ایک عالم گیر لجنہ اسلامیہ قائم ہو جانی چاہئے۔ جس ا کام یہ ہو کہ تمام دنیا سے مسلمانوں کی مذہبی حالت کی اطلاع رکھے اور اس بات کی خبر رکھنے کہ دنیا کے کسی علاقہ میں مسلمانوں کو ظاہر و نفی ذرائع سے اپنے مذہب کو تبدیل کرنے یا بصورت دیگر ہلاک ہو جانے پر تو مجبور نہیں کیا جاتا ۔ اور اس غرض کے لئے دنیا کے تمام ممالک میں ایسے مبلغ بھیجنے چاہئیں جو ہر جگہ کے مسلمانوں کو اپنے مذہب پر ثابت قدمی سے پابند رہنے کی تلقین کریں اور اس بات کا خیال رکھیں کہ کسی جگہ کے مسلمانوں کو جبراً تو اسلام سے نہیں ہٹایا جاتا ۔ خواہ وہ جبر ظاہری اسباب سے ہو خواہ تفنی اسباب سے وہ اس کی جستجو رکھیں اور جس وقت کوئی ایسی بات معلوم ہو فوراً مرکز کو اس کی اطلاع دیں تاکہ تمام متمدن دنیا کو اس سے اطلاع دی جاوے۔ کیونکہ ظالم کو کس قدر بھی طاقتور ر ہو جب اسے معلوم ہو کہ میرا ظلم دیکھنے والے موجود ہیں تو اسے بہت کچھ دینا پڑتا ہے اور اپنے نام کا خیال رکھنا پڑتا ہے اس صورت میں بغیر کسی طاقت کے استعمال کے ان غریب مسلمانوں کے مذہب کی نگہداشت ہو سکے گی جو متعصب حکومتوں کے زیر حکومت رہتے ہیں اور دنیا کو بھی ان خفیہ ریشہ دوانیوں سے آگاہی ہوتی رہے گی جو اسلام کے مٹانے کے لئے بعض حکومتیں کر رہی ہیں اور زیادہ عرصہ نہیں گزرے گا کہ یورپ کی نظروں میں مسلم ظالم مسلم مظلوم ثابت ہو جاوے گا۔ یہ تجویز ایک نہایت اہم تجویز ہے اور گو میں با تفصیل اس کے متعلق اس وقت اور اس جگہ نہیں لکھ سکا لیکن میں یہ جانتا ہوں کہ ہر ایک شخص جو سنجیدگی سے اس پر غور کرے گا اس کی اہمیت کو محسوس کر لینگا ہے یہ جانتا ہوں کہ ہر ایک شخص جو نجیدگی سے اس پر غورک اور اس کے وسیع اثرات کا اندازہ لگانے کے قابل ہو جا دے گا۔ میں اس جگہ یہ بھی اعلان کر دینا چاہتا ہوں کہ میں نے بغیر اس امر کا انتظار کئے کہ دوسرے لوگ اس امر کے متعلق کیا فیصلہ کرتے ہیں اس تجویز کو عملی جامہ پہنانے کی کوشش شروع کر دی ہے اور مختلف ممالک میں دو دو آدمی اس غرض کے لئے بھیجنے کی تجویز کر دی ہے اور میری جماعت کے جانبازوں کی ایک جماعت نے اپنے آپ کو اس غرض کے لئے وقف بھی کیا ہے جو تقریب سہولت راہ میسر آنے پر اپنے اپنے مفوضہ علاقہ میں چلی جاوے گی۔ دوسری بات نہیں یہ سوچنی چاہئے کہ اسلام پر اس قدر مصائب کی وجہ کیا ہے ؟ آخر کیا سبب ہے