انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 167 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 167

انوار العلوم جلد ۵ 146 ایک غلط بیانی کی تردید IS NOT EMPLOYED IN ANY CAPACITY AT KOHAT۔" اب اس تحقیقات کے بعد ہم یہ نتیجہ نکالنے پر مجبور ہیں کہ نہ صرف یہ کہ یہ صاحب احمدی ہی نہیں ہیں بلکہ ان صاحب کا وجود ہی خیالی ہے اور کسی شقی القلب انسان نے تمسخر کے طور پر جھوٹا خط بناکر آفتاب کے ایڈیٹر کے نام ارسال کر دیا ہے۔مندرجہ بالا تین دلائل کے علاوہ چوتھی دلیل اس خط کے جھوٹا ہونے کی یہ ہے کہ یہ صاحب تحریر فرماتے ہیں کہ وہ میرے مواعیظ اور خطبات کو مدت تک پڑھتے رہے ہیں اور میرے خطبات صرف اخبار الفضل میں شائع ہوتے ہیں جس کے خریداروں میں اس نام کا کوئی شخص نہیں ہے اور ہمارے اخبار ایجنسیوں کی معرفت فروخت نہیں ہوتے کہ کہا جاسکے کہ یہ صاحب کسی ایجنسی سے اخبار خرید کر پڑھ لیا کرتے تھے۔پانچویں دلیل ان صاحب کے جھوٹا ہونے کی یہ ہے کہ انہوں نے یہ لکھا ہے کہ اکتوبر شاہ میں انہوں نے ایک سو پچاسی روپے سات آنے کی رقم اشاعت اسلام کے لئے بھیجی تھی۔ہمارے ہاں با قاعدہ دفا تر ہیں جہاں ایک ایک پیسہ کی رقم درج ہوتی ہے۔جو منی آرڈر وغیرہ براہ راست محاسب کے نام آتے ہیں وہ تو ان کے حسابات میں درج ہوتے ہی ہیں اور جو میرے نام آویں وہ بھی خواہ میرے ذاتی ہوں یا چندہ کے دفتر محاسب میں جاتے ہیں اور وہاں سے ایک رجسٹر پر درج ہو کر پھر میرے پاس بغرض دستخط آتے ہیں اور میرے دستخط کر دینے پر وہی دفتر ان کو وصول کرتا ہے اور اگر کوئی میرا ذاتی روپیہ ہو تو مجھے ادا کر دیتا ہے ورنہ وہیں دفتر کے حسابات میں اس کو جمع کر لیتا ہے۔ان تمام رجسٹرات میں اس نام کے کسی شخص کی کوئی رقم درج نہیں ہے بلکہ چھوٹے کو اس کے گھر تک پہنچانے کے لئے ڈاک خانہ سے بھی دریافت کیا گیا کہ کیا اس نام کے کسی شخص کی کوئی رقم اس ماہ میں آئی ہے تو انہوں نے انکار کیا۔ان تمام شہادات کے بعد میں امید کرتا ہوں کہ پبلک اس خطہ کے لکھنے والے کی شرافت اور انسانیت کا اچھی طرح اندازہ کر سکے گی۔اور اسے معلوم ہو جاوے گا کہ بعض لوگ تعصب میں اندھے ہو کر کس قدر اور ذلیل حرکات کے مرتکب ہو جاتے ہیں۔اور ان جھوٹوں پر ہی قیاس کرکے وسمجھ سکے گی کہ کونسل کی ممبری اور آنریری مجسٹریٹی کے حصول کا الزام بھی اسی قسم کے اتہامات میں سے ہے۔اللہ تعالیٰ شاہد ہے کہ کونسل کی ممبری کیا اس سے ہزاروں گنے بڑھ کر بھی کوئی دنیا دی عزت ہو تو وہ میری نظروں میں ایک تنکے کے برابر بھی قدر نہیں رکھتی۔مجھے اللہ تعالیٰ نے جو مقام دیا ہے اس کے مقابلہ