انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 148 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 148

انوار العلوم جلد ۵ پھر تھوڑی مدت کے بعد اسے بھلا دیتے ہیں اسی طرح عورتیں کرتی ہیں۔مردوں میں تو ایک جماعت ایسی ہے کہ وہ وعظ و نصیحت کی باتیں سن کر ان پر عمل کرتے اور ترقی کرتے جاتے ہیں لیکن عورتیں عام طور پر کچھ فائدہ نہیں اُٹھاتیں۔یہی وجہ ہے کہ وہ نہ اخلاق میں، نہ دین میں ، نہ تمدن میں نہ معاشرت میں ترقی کرتی ہیں اور نہ ان کو کوئی فائدہ پہنچتا ہے۔اس میں شک نہیں کہ مردوں کی نسبت عورتوں کو كم وعظ و نصیحت کی باتیں سننے کا موقع ملتا ہے تاہم کچھ نہ کچھ تو ہ بھی سنتی ہیں اس لئے ان کا یہ کہنا کہ مردوں جتنا ان کو نہیں سنایا جاتا اس وقت درست ہو سکتا ہے اور یہ کہنے کا انہیں اس وقت حق پہنچتا ہے جبکہ جس قدر انہیں سنایا جاتا ہے اس کو یاد رکھیں اور اس پر عمل کریں۔ایک طالب علم اگر اپنا پہلا سبق یاد کر کے سُنا دے تو پھر اس کو یہ کہنے کا حق ہوتا ہے کہ اور سبق پڑھاؤ لیکن اگر وہ پہلا ہی سبق یاد نہیں کرتا تو اسے اور پڑھانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔اسی طرح عورتوں کو جس قدر سنایا جاتا ہے اس کو اگر وہ یا درکھیں اور اس پر عمل کریں تو ان کا حق ہے کہ اور سننے کا مطالبہ کریں ورنہ نہیں۔پس تم بجائے اس کے کہ یہ کہو کہ ہمیں مردوں کی طرح لیکچر سُنانے جائیں جو کچھ سنایا جا چکا ہو اس پر عمل کر کے دکھاؤ۔ورنہ اگر تم اس پر عمل نہ کرو اور سُننے کا مطالبہ کرو تو جو کچھ تمہیں سنایا جائے گا وہ مجبوری سے سنایا جائے گا اور اس کا کچھ فائدہ نہ ہو گا کیونکہ جو ایک بات کو ہی یاد نہیں رکھتا وہ دوسری کو کس طرح یاد رکھے گا۔جو ایک روٹی ہضم نہیں کر سکتا وہ دو کس طرح ہضم کرلے گا۔پس اگر تم نے ان پہلی باتوں پر عمل نہیں کیا جو تمہیں سنائی جا چکی ہیں تو کیا امید ہوسکتی ہے کہ اور سنانے سے کچھ فائدہ اُٹھایا جائے گا۔پس میں پہلے تمہیں نصیحت کرنا چاہتا ہوں کہ کسی وعظ کی مجلس میں تماشا کے طور پر شامل ہونا اور وہ باتیں جو اس میں سنائی جائیں ان کو گھر جا کر بھلا دینیا گناہ ہے اور اسکا کچھ فائدہ نہیں ہے۔وعظ سنانے کی غرض نہیں ہوتی ہے کہ اس کو یاد رکھا جائے اور اس پر عمل کیا جائے۔اچھا وعظ وہ نہیں جس میں سامعین کی تعریف کی جائے عام طور پر یہ دیکھا گیا ہے کہ عورتوں کو وعظ میں بھی خیال ہوتا ہے کہ ان کے متعلق اس میں کیا کہا گیا ہے۔جلسہ پر جو عورتیں جاتی ہیں وہ بھی کہتی ہیں کہ فلاں مولوی صاحب کا وحظ بہت اچھا تھا اور فلاں کا اچھا نہیں تھا۔جب دریافت کیا گیا تو معلوم ہوا کہ جیس وعظ میں ان کی تعریف کی گئی اس کو تو اچھا کہتی ہیں اور جس میں ان کے نقص بیان کئے گئے اور ان کو اصلاح کرنے کے لئے کہا گیا اس کو نا پسند کرتی ہیں۔حافظ روشن علی صاحب جو بڑے اچھے واعظ میں ان کے متعلق کہا گیا کہ ان کا وعظ اچھا نہیں تھا۔جب دریافت کیا گیا تو معلوم ہوا کہ انہوں نے عورتوں