انوارالعلوم (جلد 5) — Page 95
انوار العلوم جلد ۵ ۹۵ جماعت احمدیہ اور ہماری ذمہ داریاں اصل مضمون سوجھتا ہے۔ ہمیشہ تو نہیں اکثر دفعہ ایسا بھی ہوتا ہے کہ کھڑے ہوتے ہی مضمون سمجھا دیا جاتا ہے ایک دفعہ تو قریب تھا کہ میں بے ہوش ہو کر گر پڑتا کیونکہ دیر تک بولتا رہا مگر یہ علم نہ تھا کہ کیا کہ رہا ہوں ۔ آخر اس حالت سے اس قدر وحشت ہوئی کہ بے ہوش ہو کر گرنے لگا۔ مگر اس وقت معلوم ہوا کہ یہ تو دراصل فلاں مضمون کی تمہید تھی اور پھر میں نے ایسا اعلیٰ مضمون بیان کیا کہ میں خود حیران تھا۔ زمانہ کا اثر تو اس زمانہ میں خدا تعالیٰ کا خاص فیضان نازل ہو رہا ہے اور یہ مت سمجھو کہ یہ ہمیشہ رہے گا ۔ رسول کریم صلی الہ علیہ وسلم کا زمانہ نہ رہا تو کون کہ سکتا ہے کہ کل کیا ہو گا ۔ دیکھو حضرت ابو بکرہ کا زمانہ حضرت عمرہ کے وقت نہ تھا۔ اور حضرت عمر کازمانہ حضرت عثمان کے وقت نہ تھا اور حضرت عثمان کا زمانہ حضرت علی کے وقت نہ تھا ۔ بیشک حضرت ابوبکریہ خود بھی کامل انسان تھے مگر ان کے زمانہ کو جو فضیلت حاصل ہے اس کی وجہ یہ بھی تو ہے کہ رسول کریم لی اللہ علیہ وسلم کے زیادہ قریب تھا۔ پھر اس میں شک نہیں کہ حضرت عمر کا درجہ حضرت ابو بکر سے کم تھا اور حضرت عثمان مان سے زیادہ ۔ اس لئے وہ حضرت ابوبکر جیسا انتظام نہ کر سکے ۔ مگر اس میں بھی شک نہیں کہ حضرت ابو بکر کے زمانہ کی نسبت حضرت عمرہ کا زمانہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ دور تھا یہی حال حضرت عثمان اور حضرت علی کا تھا۔ بیشک ان کا درجہ اپنے سے پہلے خلیفوں سے کم تھا۔ لیکن ان کے وقت جو واقعات پیش آئے ۔ ان میں ان کے درجہ کا اتنا اثر نہیں تھا۔ جتنا رسول کریم کے زمانہ سے دور ہونے کا اثر تھا کیونکہ حضرت ابو بکر اور حضرت عمرہ کے وقت زیادہ تر وہ لوگ تھے جنہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت اُٹھائی تھی لیکن بعد میں دوسروں کا زیادہ دخل ہو گیا نہ چنانچہ جب حضرت علی سے کسی نے پوچھا کہ حضرت ابوبکر اور عمر کے عہد میں تو ایسے فتنے اور فساد ہوتے تھے۔ جیسے آپ کے وقت میں ہو رہے ہیں تو انہوں نے کہا بات یہ ہے کہ ابو بکر اور عمرہ کے ما تحت میرے جیسے لوگ تھے اور میرے ماتحت تیرے جیسے لوگ ہیں۔ تو لوگوں کی وجہ سے زمانہ میں بڑا فرق پڑ جاتا ہے۔ تم کو پس تم لوگ اس زمانہ کو قدر کی نگاہ سے دیکھو اور یہ مت سمجھو کہ تم پر موجودہ زمانہ کی قدر کرو کوئی بوجھ پڑا ہوا ہے کہ سمجھو کہ ہمیں دین کی خدمت کا موقع بلکہ ملا ہوا ہے ۔ عام طور پر دیکھا جاتا ہے۔ وقت کے گزر جانے پر چھوٹی چھوٹی باتوں پر بھی افسوس کیا جاتا ہے ۔ مثلاً کسی کو کھانسی کی بیماری ہو اور وہ سنگترہ مانگے تو نہیں دیا جاتا لیکن اگر وہ مر جائے و پیچھے افسوس کیا جاتا ہے کہ ہم نے کیوں نہ اُسے سنگترہ دے دیا۔ پس جب نادانی کی باتوں پر بعد میں