انوارالعلوم (جلد 5) — Page 96
انوار العلوم جلد ۵ 94 جماعت احمدیہ کی ذمہ داریاں حرت اور افسوس کا اظہار کیا جاتا ہے تو ایسی باتوں پر کیوں افسوس نہ ہو گا جو اپنے اندر بہت بڑی حقیقت اور صداقت رکھتی ہیں۔ہو سکتا ہے کہ جب یہ زمانہ گذر جائے تو کوئی کہے کاش ! میں اس وقت اپنا سب کچھ خدا کے لئے دے دیتا اور خود ننگا پھرتا۔تو انسان کو چاہئے کہ کام کرنے کے وقت یہ نہ دیکھے کہ میں نے کتنا کام کیا ہے بلکہ یہ دیکھے کہ اگر یہ وقت ہاتھ سے جاتا رہا تو پھر کس قدر مجھے حسرت اور افسوس ہو گا۔پس ہماری جماعت کے خواہ مرد ہوں خواہ عور نہیں ان کو میں اس طرف توجہ دلاتا ہوں کہ اس وقت جو فیضانِ الہی ہو رہے ہیں ان سے فائدہ اُٹھانے کی کوشش کریں۔اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے کہ اب یہ زمانہ جو تیرہ سو سال کے بعد آیا ہے پھر کب آئے گا۔خدا تعالیٰ کے نبی عظیم الشان انسان ہوتے ہیں۔وہ روز پیدا نہیں ہوا کرتے۔پس تم لوگ اس زمانہ کی قدر کر کے دین کی خدمت کرنے کی کوشش کرو تاکہ خدا تعالیٰ کی اس بارش سے تمہارے گھر بھر جائیں جو دنیا کو سیراب کرنے کے لئے اس نے نازل کی ہے اور اس نور سے بھر پور ہو جاؤ جس کے پھیلانے کا خدا تعالیٰ نے ارادہ کیا ہے۔عورتوں کی ذمہ داری ہماری جماعت کی عورتیں بھی مر بھی ، بچے بھی نوجوان بھی ایک ذمہ داری اپنے اوپر رکھتے ہیں ، لیکن اکثر دیکھا جاتا ہے کہ عور نہیں کہ دیتی ہیں دین کی خدمت کرنا مردوں کا فرض ہے۔اس لئے میں نے کہا تھا کہ آج عورتیں بھی آئیں تاکہ ان کے کانوں میں یہ بات ڈالدی جانے کہ خدا تعالیٰ کے سامنے جس طرح مرد جواب دہ ہیں اسی طرح عورتیں بھی ہیں۔اس لئے یہ خیال نہیں کرنا چاہئے کہ ساری ذمہ داری مردوں پر ہی ہے دین کے معاملہ میں مرد اور عورتیں دونوں یکساں جواب دہ ہیں۔اس لئے ضروری ہے کہ دین کی اشاعت میں دونوں حصہ ہیں۔اور جب تک دونوں حصہ نہ لیں۔اس وقت تک خدا تعالیٰ کی پوری برکت ان پر نازل نہیں ہو سکتی۔اس کی بہت اچھی مثال گاڑی کی ہے۔جب تک دونوں گھوڑے متفق ہو کر اسے نہ کھینچیں وہ نہیں کھینچ سکتی۔اسی طرح مرد و عورت کا حال ہے۔مرد خواہ کتنا کمانے والا ہو اگر بیوی فضول خرچ ہو تو کچھ نہیں بن سکتا۔اسی طرح اگر مرد مست اور کابل ہو تو بیوی خواہ کتنی ہوشیار ہو کچھ نہیں بنا سکتی۔یہی حال دینی معاملات کا ہے جب تک عورت اور مرد دونوں مل کر ان کو سر انجام نہ دیں وہ اچھی طرح پورے نہیں ہو سکتے ہیں جہاں دین کی خدمت کرنا مردوں کا فرض ہے وہاں ان کی عورتوں کا بھی فرض ہے اور انھیں چاہئے کہ مقدور بھر ضرور اس فرض کو ادا کرنے کی کوشش کریں۔