انوارالعلوم (جلد 5)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 93 of 653

انوارالعلوم (جلد 5) — Page 93

انوار العلوم جلد ۵ ۹۳ جماعت احمدیہ کی ذمہ داریاں ہمارے لئے بہت آسان ہو جاتا ہے کیونکہ تمدنی طور پر سارے علاقہ پر لاہور کا اثر ہے۔ یہی دیکھ لو پنجاب میں سیاسی خیالات پھیلانے والا کونسا مقام ہے ؟ یہی لاہور جب یہاں کے لوگوں میں سیاسی معاملات کے متعلق جوش پیدا ہو گیا تو سارے صوبہ میں پھیل گیا۔ ہیں جو مقام کسی صوبہ کا دار الامارت ہوتا ہے ۔ اس سے سارے صوبہ کے لوگوں کا بہت تعلق ہوتا ہے کوئی مقدمات کے لئے آتا ہے۔ کوئی سفارشوں کے لئے آتا ہے کوئی افسروں سے ملنے کے لئے آتا ہے۔ کوئی ملازمت کے لئے آتا ہے، کوئی تجارت کیلئے آتا ہے کوئی اور فوائد حاصل کرنے کیلئے آتا ہے پس اس شہر میں اگر ہماری مضبوط جماعت ہو جائے اور ایسی مضبوط ہو جائے کہ دیکھنے والوں کو دوسروں سے الگ اور نمایاں طور پر نظر آجائے۔ دینی کوشش اور سعی کی وجہ سے ہی نہیں بلکہ تعداد کے لحاظ سے بھی۔ مثلاً جس بازار میں کوئی جائے ۔ اور پوچھے یہ دکان کس کی ہے۔ تو اسے بنایا جائے کہ فلاں احمدی کی ہے اور اگر کوئی پوچھے یہ کونسا وکیل ہے تو اُسے بتایا جائے فلاں احمدی ماں احمدی وکیل ہے ۔ اسی طرح ہر پہلو اور ہر رنگ ہر پہلو اور ہر رنگ میں ہماری جماعت کے لوگ ہر ایک شخص کو نمایاں طور پر نظر آنے لگیں تو انشاء اللہ سارے صوبہ میں ہماری بہت جلد ترقی ہو سکتی ہے۔ ان خاص نصیحتوں کے بعد میں مردوں اور عورتوں کو اس طرف خاص فیضان کا زمانہ توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ خاص فیضان کے خاص اوقات مقرر ہوتے ہیں۔ اگر وہ وقت جو کسی فیض کے حاصل ہونے کے لئے مقرر ہو۔ یونسی نکل جائے تو پیچھے کچھے نہیں بنتا ۔ ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ۔ میری امت میں سے ستر ہزار انسان ایسے ہونگے جو بغیر حساب کے جنت میں داخل کئے جائیں گے۔ ایک صحابی نے کہا یا رسول اللہ میں بھی ان میں شامل ہوں گا آپ نے فرمایا ہاں ۔ پھر دوسرے نے کہا یا رسول اللہ میں بھی ۔ آپ نے فرمایا وہ وقت گذر گیا ۔ تو خدا تعالیٰ کے خاص فضل کے لئے خاص وقت مقرر ہوتے ہیں۔ اس زمانہ میں گیا۔ خدا کے جبکہ لوگ دین کو چھوڑ چکے اور اس سے نفرت کرتے بلکہ اس پر مہنسی اُڑاتے تھے ۔ خدا تعالیٰ نے اپنے ایک رسول کو بھیج کر ہماری اصلاح کی اور ہماری ترقی کے لئے دروازے کھول دیئے اس کے متعلقی خوب اچھی طرح یاد رکھنا چاہئے کہ ایسے دروازے روز روز نہیں کھلا کرتے تیرہ سو سال کے طویل عرصہ کے بعد ایک رسول کو دیکھنے کی صورت پیدا ہوئی ہے۔ دیکھو دنیا میں جب کوئی نئی چیز نکلتی ہے تو کس قدر شوق اور خوشی سے اس کو دیکھا جاتا ہے۔ فونوگراف اور گراموفون جب نکلے تو پیروں لوگ ان کو دیکھنے کے لئے کھڑے رہتے ۔ لیکن ان سب سے بڑی چیز بلکہ اس سے بڑی کوئی ہے ہی عله مسند احمد بن خلیل جلدا صفحه ۲۷۱