انوارالعلوم (جلد 5) — Page 87
انوار العلوم جلد ۵۵ AL جماعت احمدیہ کی ذمہ داریاں جو ساری جماعت میں پھیلی اس کی بنیا د لاہورمیں ہی لکھی گئی اس وقت جبکہ اس شورش کی بنیاد رکھی جا رہی تھی۔لاہور میں آنیوالا شخص بجائے اس کے کہ یہاں کی جماعت کے افراد کی آپس میں محبت اور پیار دیکھے یہی دیکھتا تھا کہ ان میں اختلاف اور انشقاق بڑھتا جاتا ہے اور معلوم کرتا تھا کہ یہ جماعت اب بھی گئی ، اب بھی گئی۔کیونکہ یہاں کے لوگوں کا رات دن سوائے جھگڑے کے اور کوئی کام ہی نہ تھا۔اس وقت ایک طرف تو وہ لوگ تھے جن کے خیالات وہی تھے جو ہمارے ہیں اور دوسری طرف وہ تھے جو اب پیغامی بن کر رونما ہوئے ہیں۔ان میں آئے دن جھگڑے اور بخشیں رہتی تھیں۔نماز کے لئے جمع ہوتے تو جھگڑتے۔نماز ختم کر لیتے تو جھگڑتے کسی دعوت پر جمع ہوتے تو جھگڑتے کیسی اور موقع پر اکٹھے ہوتے تو جھگڑتے۔اور یہ مادہ اس قدر بڑھ گیا تھا کہ جب کبھی آپس میں صلح صفائی کی تحریک ہوتی تو اس تحریک میں سے بھی فساد کا ہی پہلو نکال لیا جاتا۔ایک دفعہ جب فتنہ بہت بڑھ گیا اور میں قادیان سے لاہور روانہ ہوا تو حضرت خلیفہ اول نے مجھے فرمایا کہ وہاں کے لوگوں کو سمجھانا۔جب میں یہاں آیا تو میں نے اپنا یہ خیال پیش کیا کہ آپس میں صلح کی کوئی تدبیر ہونی چاہئے اور جس کے متعلق کسی کو اختلاف ہو اس کو علیحدگی میں بتانا چاہئے مجلس میں شرمندہ اور نادم نہیں کرنا چاہئے اور میں نے اسی مضمون پر تقریر بھی کی۔تقریر کے بعد ایک دوست کے ہاں دعوت تھی جب ہم روانہ ہوئے تو پیچھے دیکھا کہ لوگوں کی ایک جماعت میری تقریر کے متعلق یہ کہہ رہی ہے کہ اس کا فلاں حصہ فلاں پر چسپاں ہوتا ہے اور فلاں حصہ فلاں پر گویا وہ تقریر جو صلح کے لئے بطور تجویز کی گئی تھی، اسی کے متعلق یہ کہنا شروع کر دیا گیا کہ اس میں جو یہ کہا گیا ہے کہ ضد نہیں کرنی چاہئے۔یہ فلاں کے متعلق کہا گیا ہے۔دوسرا کہتا نہیں فلاں کے متعلق ہے۔اس پر جھگڑا شروع ہو گیا۔تو اس وقت سخت فتنہ کی بنیاد رکھی جا چکی تھی۔پھر وہ وقت آیا جبکہ اس فتنہ کے بیج کا نتیجہ پیدا ہوا۔اس وقت خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس الہام کے مطابق کہ لاہور میں ہمارے پاک ممبر " یہاں کی جماعت کے کثیر حصہ کو سنبھالا اور گوالیا ہوا کہ بعض اور مقامات پر فتنہ برپا کرنے والوں کے ساتھی ہمارے لوگوں سے زیادہ پائے گئے ، لیکن لاہور میں خدا تعالیٰ نے جماعت کے اکثر حصہ کو حق پر قائم رکھا تو لاہور کی جماعت مختلف حالتوں میں سے گزری ہے اور میں نے چونکہ ان حالتوں کو دیکھا ہے۔اس لئے اس سے اچھی طرح واقف ہوں۔گو مجھے اب لاہور میں آنے کا کم موقع ملتا ہے۔پہلے تو میں سال میں دو تین بار آیا کرتا تھا اور اب کم آسکتا ہوں۔تاہم یہاں کی جماعت کی حالت کا مجھے خوب علم ہے اور میں یہاں کے لوگوں کے حالات سے خوب اچھی طرح واقف ہوں۔